هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى لَحِقَ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، قَالَ: فَرَفَعُوهُ، وَقَالُوا: هَذَا كَانَ يَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُعْجِبُوا بِهِ، فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ، فَحَفَرُوا لَهُ، فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ، فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ، فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، فَتَرَكُوهُ مَنْبُوذًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم بنو نجار میں سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کاتب تھا، اس نے سورت بقرہ اور آل عمران بھی پڑھ رکھی تھی، کچھ عرصے کے بعد وہ آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جا کر مل گیا، مشرکین نے اسے بڑا اچھالا اور کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہی لکھ لکھ کردیا کرتا تھا، کچھ ہی عرصے بعد اللہ نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مرگیا، لوگوں نے اس کے لئے قبر کھودی اور اسے قبر میں اتار دیا لیکن اگلا دن ہوا تو دیکھا کہ زمین نے اسے باہر نکال پھینکا ہے، انہوں نے کئی مرتبہ اسے دفن کیا، ہر مرتبہ زمین نے اسے نکال باہر پھینکا حتیٰ کہ لوگوں نے اسے یہیں پڑا چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13324]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3617، م: 2781
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3617، م: 2781