بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ" قَالَ:" وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ" فَقُلْتُ: مَا الْفَأْلُ؟ قَالَ:" الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے اور بدشگونی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا کلمہ اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے، میں نے پوچھا فال سے کیا مراد ہے؟ تو فرمایا اچھا کلمہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12778]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5756، م: 2224
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5756، م: 2224