يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ حَمَّادٌ: وَالْجَعْدُ قد ذكره، قَالَ: عَمَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى نِصْفِ مُدٍّ شَعِيرٍ فَطَحَنَتْهُ، ثُمَّ عَمَدَتْ إِلَى عُكَّةٍ كَانَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ، فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً، قَالَ: ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أَرْسَلَتْنِي إِلَيْكَ تَدْعُوكَ، فَقَالَ:" أَنَا وَمَنْ مَعِي"، قَالَ: فَجَاءَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ، قَالَ: فَدَخَلْتُ، فَقُلْتُ لِأَبِي طَلْحَةَ: قَدْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ، فَمَشَى إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هِيَ خَطِيفَةٌ اتَّخَذَتْهَا أُمُّ سُلَيْمٍ مِنْ نِصْفِ مُدٍّ شَعِيرٍ، قَالَ: فَدَخَلَ فَأَتِيَ بِهِ، قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهَا، ثُمَّ قَالَ:" أَدْخِلْ عَشَرَةً،"، قَالَ: فَدَخَلَ عَشَرَةٌ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ دَخَلَ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا، ثُمَّ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا، ثُمَّ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا، حَتَّى أَكَلَ مِنْهَا أَرْبَعُونَ، كُلُّهُمْ أَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، قَالَ: وَبَقِيَتْ كَمَا هِيَ، قَالَ: فَأَكَلْنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نصف مد کے برابر جو پیسے، پھر گھی کا ڈبہ اٹھایا، اس میں سے تھوڑا سا جو گھی تھا وہ نکالا اور ان دونوں چیزوں کا ملا کر "" خطیفہ "" (ایک قسم کا کھانا) تیار کیا اور مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلانے کے لئے بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھی؟ یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔ میں نے جلدی سے گھر پہنچ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو اپنے ساتھیوں کو بھی لے آئے، یہ سن کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں چلتے چلتے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہاں تو تھوڑا سا "" خطیفہ "" ہے جو ام سلیم نے نصف مد کے برابر جو سے بنایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ان کے گھر پہنچے تو وہ کھانا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ، چنانچہ دس آدمی اندر آئے اور انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر دس دس کر کے چالیس آدمیوں نے وہ کھانا کھالیا اور خوب سیر ہو کر سب نے کھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی رہا، ہم نے بھی اسے کھایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12491]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 5450، م: 2040، وفيه: "والقوم سبعون رجلا أو ثمانون"
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 5450، م: 2040، وفيه: "والقوم سبعون رجلا أو ثمانون"