بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 13317
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 13317
حدیث نمبر: 13317 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ أَنَسٌ :" مَا شَمِمْتُ شَيْئًا، عَنْبَرًا قَطُّ، وَلَا مِسْكًا قَطُّ، وَلَا شَيْئًا قَطُّ، أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ، دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا، أَلْيَنَ مَسًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ: قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَلَسْتَ كَأَنَّكَ تَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَأَنَّكَ تَسْمَعُ إِلَى نَغَمَتِهِ؟ فَقَالَ: بَلَى وَاللَّهِ، إِنِّي " لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَقُولَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُوَيْدِمُكَ" قَالَ:" خَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ وَأَنَا غُلَامٌ، لَيْسَ كُلُّ أَمْرِي كَمَا يَشْتَهِي صَاحِبِي أَنْ يَكُونَ، مَا قَالَ لِي فِيهَا: أُفٍّ، وَمَا قَالَ لِي: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ أوْ: أَلَّا فَعَلْتَ هَذَا"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی، (ثابت کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوحمزہ! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا یا ان کی آواز نہیں سنی؟ آپ کا چھوٹا سا خادم حاضر ہے) میں نے مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دس سال کی خدمت کی ہے، میں اس وقت لڑکا تھا، یہ ممکن نہیں ہے کہ میرا ہر کام دوسرے کی خواہش کے مطابق ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی بھی " اف " تک نہیں کہا اور نہ ہی کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13317]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330.
← پچھلی حدیث (13316) باب پر واپس اگلی حدیث (13318) →