هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" إِنِّي لَأَسْعَى فِي الْغِلْمَانِ، يَقُولُونَ: جَاءَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعَى، فَلَا أَرَى شَيْئًا، ثُمَّ يَقُولُونَ: جَاءَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعَى، فَلَا أَرَى شَيْئًا، قَالَ: حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَاحِبُهُ أَبُو بَكْرٍ، فَكَمَنَا فِي بَعْضِ حِرَارِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ بَعَثَا رَجُلًا مِنْ أَهْلِ البادية لِيُؤْذِنَ بِهِمَا الْأَنْصَارَ، فَاسْتَقْبَلَهُمَا زُهَاءَ خَمْسِ مِائَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَيْهِمَا، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: انْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، فَخَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، حَتَّى إِنَّ الْعَوَاتِقَ لَفَوْقَ الْبُيُوتِ يَتَرَاءَيْنَهُ، يَقُلْنَ: أَيُّهُمْ هُوَ؟ أَيُّهُمْ هُوَ؟ قَالَ: فَمَا رَأَيْنَا مَنْظَرًا شبيهًا بِهِ يَوْمَئِذٍ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا وَيَوْمَ قُبِضَ، فَلَمْ أَرَ يَوْمَيْنِ شبيهًا بِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بچوں کے ساتھ دوڑ رہا تھا، جب بچے یہ کہتے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگئے تو میں اتنا تیز دوڑتا کہ کچھ نہ دیکھتا، دوبارہ بچے یہی جملے کہتے تو میں پھر اتنا تیز دوڑنے لگتا کہ کچھ نہ دیکھتا تھا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے رفیق محترم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، ہم اس وقت مدینہ کے کسی علاقے میں تھے، ہم نے ایک دیہاتی آدمی کو انصار کے پاس یہ خبر دے کر بھیجا اور پانچ سو کے قریب انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا استقبال کرنے کے لئے نکل پڑے، وہ لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ آپ دونوں حضرات امن وامان کے ساتھ مطاع بن کر داخل ہوجائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آگے آگے چلتے رہے اور سارے اہل مدینہ نکل آئے حتیٰ کہ خواتین بھی اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھنے اور آپس میں پوچھنے لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کون سے ہیں؟ ہم نے اس دن جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا، میں نے یہ دن بھی دیکھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور وہ دن بھی دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے، ان دونوں دنوں جیسا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13318]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3911
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3911