إِسْمَاعِيلُ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهَا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ، فَقَالُوا: أَكْفِئْهَا يَا أَنَسُ، فَأَكْفَأْتُهَا، فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هِيَ؟ قَالَ: بُسْرٌ وَرُطَبٌ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَنَسٍ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ"، قَالَ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک دن کھڑا لوگوں کو فصیخ پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ شراب حرام ہوگئی، وہ کہنے لگے انس! تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، راوی نے ان سے شراب کی تفتیش کی تو فرمایا کہ وہ تو صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12973]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5583، م: 1980
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5583، م: 1980