بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ جَعْفَرٌ: لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مُطِرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخَرَجَ، فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ الْمَطَرُ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟، قَالَ:" لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں بارش ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باہر نکل کر اپنے کپڑے جسم کے اوپر والے حصے سے ہٹادیئے تاکہ بارش کا پانی جسم تک بھی پہنچ سکے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا کہ یہ بارش اپنے رب کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12365]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 898
الحكم: إسناده صحيح، م: 898