بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 13559
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 13559
حدیث نمبر: 13559 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبُو سَلَمَةَ صَاحِبُ الطَّعَامِ ، جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ ، الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ صَاحِبُ الطَّعَامِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ وَلَيْسَ بِجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَلِيقٍ النَّصْرَانِيِّ لِيَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: بَعَثَنِي إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، فَقَالَ: وَمَا الْمَيْسَرَةُ؟ وَمَتَى الْمَيْسَرَةُ؟ وَاللَّهِ مَا لِمُحَمَّدٍ ثَاغِيَةٌ، وَلَا رَاغِيَةٌ، فَرَجَعْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ:" كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، أَنَا خَيْرُ مَنْ بَايَعُ، لَأَنْ يَلْبَسَ أَحَدُكُمْ ثَوْبًا مِنْ رِقَاعٍ شَتَّى، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ بِأَمَانَتِهِ، أَوْ: فِي أَمَانَتِهِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حلیق نصرانی کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وہ کپڑے بھیج دے جو میسرہ کی طرف ہیں، چنانچہ میں نے اس کے پاس جا کر اس سے یونہی کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وہ کپڑے بجھوا دو جو میسرہ کی طرف ہیں، اس نے کہا کون میسرہ؟ کب کا میسرہ؟ بخدا! محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک بھی بکری یا چرواہا نہیں ہے، میں یہ سن کر واپس آگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا دشمن اللہ نے جھوٹ بولا ہے، میں سب سے بہترین خریدو فروخت کرنے والا ہوں، تم میں سے کوئی شخص کپڑے کی کتریں جمع کر کے ان کا کپڑا بنا کر پہن لے، یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ کسی امانت میں سے ایسی چیز پر قبضہ کرلے جس کا اسے حق نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13559]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى سلمة صاحب الطعام و جابر بن يزيد، وقال أبو حاتم فى العلل: هذا حديث منكر
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى سلمة صاحب الطعام و جابر بن يزيد، وقال أبو حاتم فى العلل: هذا حديث منكر
← پچھلی حدیث (13558) باب پر واپس اگلی حدیث (13560) →