أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ، فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ، فَوَحَشَ بِهَا، ثُمَّ جَاءَ سَائِلٌ آخَرُ، فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ! قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْجَارِيَةِ: اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، لیکن اس نے انہیں ہاتھ نہ لگایا، دوسرا آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، اس نے خوش ہو کر انہیں قبول کرلیا اور کہنے لگا سبحان اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے کھجوریں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی باندی سے فرمایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور اسے ان کے پاس رکھے ہوئے چالیس درہم دلوادو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13731]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لضعف عمارۃ بن زاذان الصيدلاني
الحكم: إسنادہ ضعیف لضعف عمارۃ بن زاذان الصيدلاني