أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ نَاسًا سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ عَنْ عِبَادَتِهِ فِي السِّرِّ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَسْأَلُونَ عَمَّا أَصْنَعُ، أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي وَأَنَامُ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے کچھ لوگوں نے ازواج مطہرات سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انفرادی عبادت کے متعلق سوال کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13727]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5063
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5063