أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، حُسَيْنٌ ، السُّدِّيِّ ، أَسْوَدُ ، السُّدِّيُّ ، يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَبِي هُبَيْرَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ حُسَيْنٌ : عَنِ السُّدِّيِّ ، وَقَالَ أَسْوَدُ : حَدَّثَنَا السُّدِّيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى، فَابْتَاعَ لَهُمْ خَمْرًا،" فَلَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَصْنَعُهُ خَلًّا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَهْرَاقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں کچھ یتیم زیر پرورش تھے، انہوں نے ان کے پیسوں سے شراب خرید کر رکھ لی، جب شراب حرام ہوگئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کے پاس شراب ہو تو کیا ہم اسے سرکہ نہیں بنا سکتے؟ فرمایا نہیں، چنانچہ انہوں نے اسے بہا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13733]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1983 وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، م: 1983 وانظر ما قبله