أَبُو سَلَمَةَ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عرفہ کے دن آپ لوگ کیا کر رہے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ تہلیل کہہ رہے تھے، ان پر بھی نکیر نہ ہوتی تھی اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے اور ان پر بھی کوئی نکیر نہ کی گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13521]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 970، م: 1285
الحكم: إسناده صحيح، خ: 970، م: 1285