حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَعُمَرُ، وَنَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، حَتَّى دَخَلَ دَارَنَا، فَحُلِبَتْ لَهُ شَاةٌ، وَشُنَّ عَلَيْهِ مِنْ مَاءِ بِئْرِنَا، حَسِبْتُهُ قَالَ: فَشَرِبَ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ، وَعُمَرُ مُسْتَقْبِلُهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبُو بَكْرٍ! فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ، فَقَالَ:" الْأَيْمَنُونَ"، قَالَ: فَقَالَ لَنَا أَنَسٌ: فَهِيَ سُنَّةٌ، فَهِيَ سُنَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو بیس سال کا تھا، میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہی سنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13512]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2571، م: 2029
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2571، م: 2029