حَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَقَدْ دُعِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ، وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، قَالَ: وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمِ الْمِرَارِ، وَهُوَ يَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ، وَلَا صَاعُ تَمْرٍ"، وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَ نِسْوَةٍ. وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ، أَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا، فَمَا وَجَدَ لَهَا مَا يَفْتَكُّهَا بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ وہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آئے تھے اور میں نے ایک دن انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج شام کو آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس غلے یا گندم کا ایک صاع بھی نہیں ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس مدینہ منورہ میں گروی رکھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے چند مہینوں کے لئے جو لئے تھے اور اسے چھڑانے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ نہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13497]
الحكم: إسناده صحيح