بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ ، هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَفَّانُ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ" قَالَ: ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ: أَبُو سَيْفٍ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهِ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ، وَقَدْ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا، قَالَ: فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَيْفٍ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَمْسَكَ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا، وَاللَّهِ إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات میرے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دودھ پلانے کے لئے مدینہ کے ایک لوہار "" جس کا نام ابوسیف تھا "" کی بیوی ام سیف کے حوالے کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بچے سے ملنے کے لئے وہاں جایا کرتے تھے، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ گیا ہوں، وہاں پہنچے تو ابوسیف بھٹی پھونک رہے تھے اور پورا گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے تیزی سے چلتا ہوا ابوسیف کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ ابوسیف! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے ہیں، چنانچہ وہ رک گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13014]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1303، م: 2315
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1303، م: 2315