بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 13537
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 13537
حدیث نمبر: 13537 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُؤَمَّلُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَلْقَى رَجُلًا، فَيَقُولُ: يَا فُلَانُ، كَيْفَ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: بِخَيْرٍ، أَحْمَدُ اللَّهَ، فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا فُلَانُ؟ فَقَالَ: بِخَيْرٍ، إِنْ شَكَرْتُ، قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّكَ كُنْتَ تَسْأَلُنِي، فَتَقُولُ: جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ سَكَتَّ عَنِّي، فَقَالَ لَهُ:" إِنِّي كُنْتُ أَسْأَلُكَ، فَتَقُولُ: بِخَيْرٍ، أَحْمَدُ اللَّهَ، فَأَقُولُ: جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ، قُلْتَ: إِنْ شَكَرْتُ، فَشَكَكْتَ، فَسَكَتُّ عَنْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ملتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے دریافت فرماتے کہ تمہارا کیا حال ہے؟ اور وہ ہمیشہ یہی جواب دیتا کہ الحمدللہ! خیریت سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے جواباً فرما دیتے کہ اللہ تمہیں خیریت ہی سے رکھے، ایک دن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حسب معمول اس سے سوال پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا کہ خیریت سے ہوں بشرطیکہ شکر کروں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! پہلے تو جب آپ مجھ سے میرا حال دریافت کرتے تھے تو مجھے دعاء دیتے تھے کہ اللہ تمہیں خیریت سے رکھے، آج آپ خاموش ہوگئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے میں تم سے سوال کرتا تھا تو تم یہ کہتے تھے کہ الحمدللہ! خیریت سے ہوں، اس لئے میں جواباً کہہ دیتا تھا کہ اللہ تمہیں خیریت سے رکھے، لیکن آج تم نے کہا کہ " اگر میں شکر کروں " تو مجھے شک ہوگیا اس لئے میں خاموش ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13537]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ مؤمل بن إسماعيل، والصحيح أنه مرسل
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ مؤمل بن إسماعيل، والصحيح أنه مرسل
← پچھلی حدیث (13536) باب پر واپس اگلی حدیث (13538) →