مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ يَا إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، وَلَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، مَهْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا؟ قَالَ: أَوَمَا سَمِعْتِ مَا رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ؟ يَا عَائِشَةُ،" لَمْ يَدْخُلْ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ یہودی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کرتے ہوئے " السام علیکم " کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی فرمایا " السام علیکم " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پیچھے سے یہودیوں کا یہ جملہ سن کر فرمایا اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! سام (موت) اور اللہ کی لعنت و غضب تم ہی پر نازل ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سکون کی تلقین کی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! میں نے انہیں جو جواب دیا ہے، کیا تم نے نہیں سنا؟ نرمی جس چیز میں بھی شامل ہوجائے، وہ اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے چھین لی جائے اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13531]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف مؤمل بن إسماعيل، والحديث بنحوه فى الصحيح: 6927 من رواية عائشة، وسيأتي فى المسند برقم: 24090
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف مؤمل بن إسماعيل، والحديث بنحوه فى الصحيح: 6927 من رواية عائشة، وسيأتي فى المسند برقم: 24090