مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ، فَهَمَّ بِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، فَقَالَ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا، أَوْ قَالَ: مَعْرُوفًا، اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ"، فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ، وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ، وَقَالَ: أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ، فَتَرَكَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علی بن زید کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کو انصار کے ایک سردار سے کوئی ایسی چیز پہنچی جس کی بناء پر مصعب نے اس سے سمجھنے کا ارادہ کرلیا، اسی اثناء میں حضرت انس رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انصار سے اچھا سلوک کرنے کی وصیت پر عمل کرو، ان کی نیکوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگاروں سے درگذر کیا کرو، یہ سن کر مصعب نے اپنے آپ کو تخت پر گرا لیا اور اپنے رخسار کو تکیے سے لگا لیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر اور اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13528]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف على بن زيد بن جدعان و مؤمل، لكن مؤملا قد توبع
الحكم: المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف على بن زيد بن جدعان و مؤمل، لكن مؤملا قد توبع