بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 13683
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 13683
حدیث نمبر: 13683 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، إِمْلَاءً عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ" رِعْلًا وَعُصَيَّةَ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا، وَاسْتَمَدُّوا عَلَى قَوْمِهِمْ، فَأَمَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: كُنَّا نُسَمِّيهِمْ الْقُرَّاءَ فِي زَمَانِهِمْ، كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ، وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ، فَقَتَلُوهُمْ، فَقَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى هَذِهِ الْأَحْيَاءِ: عُصَيَّةَ وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ، وحَدَّثَنَا أَنَسٌ: أَنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا:" بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا"، ثُمَّ نُسِخَ، أَوْ رُفِعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قبیلہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے کچھ لوگ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنی قوم پر تعاون کا مطالبہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ تعاون کے لئے بھیج دیئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں " قراء " کہا کرتے تھے، یہ لوگ دن کو لکڑیاں کاٹتے اور رات کو نماز میں گذار دیتے تھے، وہ لوگ ان تمام حضرات کو لے کر روانہ ہوگئے، راستے میں جب بیر معونہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ کیا اور انہیں شہید کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر دعاء کرتے رہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان صحابہ رضی اللہ عنہ کے یہ جملے کہ " ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل چکے، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہمیں بھی راضی کردیا " ایک عرصے تک قرآن کریم میں پڑھتے رہے، بعد میں ان کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13683]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
← پچھلی حدیث (13682) باب پر واپس اگلی حدیث (13684) →