بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 13689
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 13689
حدیث نمبر: 13689 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، أَبِي لَبِيدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، قَالَ: أُرْسِلَتْ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ وَالْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ، قَالَ: فَأَتَيْنَا الرِّهَانَ، فَلَمَّا جَاءَتْ الْخَيْلُ، قُلْنَا: لَوْ مِلْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَسَأَلْنَاهُ: أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ فِي قَصْرِهِ فِي الزَّاوِيَةِ، فَسَأَلْنَاهُ: فَقُلْنَا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أََكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاهِنُ؟ قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ، لَقَدْ" رَاهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، يُقَالُ لَهُ: سَبْحَةٌ، فَسَبَقَ النَّاسَ، فَانْتَشَى لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابولبید رحمہ اللہ نے مازہ بن زیار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے حجاج بن یوسف کے زمانے میں اپنے گھوڑے کو بھیجا اور سوچا کہ ہم بھی گھڑ دوڑ کی شرط میں حصہ لیتے ہیں، پھر ہم نے سوچا کہ پہلے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھ لیتے ہیں کہ کیا آپ لوگ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں گھڑ دوڑ پر شرط لگایا کرتے تھے؟ چنانچہ ہم نے ان کے پاس آکر ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ہاں! ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک گھوڑے پر " جس کا نام سبحہ تھا " گھڑ دوڑ میں حصہ لیا تھا اور وہ سب سے آگے نکل گیا تھا، جس سے انہیں تعجب ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13689]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
← پچھلی حدیث (13688) باب پر واپس اگلی حدیث (13690) →