يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، التَّيْمِيُّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:" مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ؟" فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ قَدْ ضَرَبَاهُ حَتَّى بَرَدَ، فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، فَقَالَ: أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ؟!، فَقَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَهُ قَوْمُهُ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مار مار کر ٹھنڈا کردیا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12143]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3962 ، م: 1800
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3962 ، م: 1800