عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَتْ الصَّلَاةُ تُقَامُ، فَيُكَلِّمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ فِي حَاجَةٍ تَكُونُ لَهُ، فَيَقُومُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَمَا يَزَالُ قَائِمًا يُكَلِّمُهُ، فَرُبَّمَا رَأَيْتُ بَعْضَ الْقَوْمِ لَيَنْعَسُ مِنْ طُولِ قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نماز کا وقت ہوجاتا تو ایک آدمی آکر اپنی کسی ضرورت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ باتیں کرنے لگتا اور ان کے اور قبلہ کے درمیان کھڑا ہوجاتا اور وہ مسلسل باتیں کرتا رہتا یہاں تک کہ اس کی خاطر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زیادہ دیر کھڑے رہنے کی صورت میں بعض لوگ سو بھی جاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12642]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12633
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12633