الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ ، مَدِيني، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي رَهْطٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فقَالَ: صَلَّيْتُمْ؟ يَعْنِي الْعَصْرَ، قَالُوا: نَعَمْ، قُلْنَا: أَخْبِرْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: كَانَ يُصَلِّيهَا وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن وردان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اہل مدینہ کے ایک وفد کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا اور پوچھا کہ یہ بتائیے " اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ عمدہ سلوک کرے " کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ نماز کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ نماز اس وقت پڑھتے تھے جب کہ سورج روشن اور صاف ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13181]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.