عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَجُلًا، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ: إِنْ يَعِشْ هَذَا، فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک انصاری لڑکا " جس کا نام محمد " بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا ہو تو سکتا ہے کہ اس پر بڑھاپا آنے سے پہلے ہی قیامت آجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13850]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6167، م: 2953
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6167، م: 2953