بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 13854
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 13854
حدیث نمبر: 13854 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ أُنَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ، فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَهُ بِاللَّيْلِ، وَكَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَاءِ، فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ، فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَالْفُقَرَاءِ، فَبَعَثَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَعَرَّضُوا لَهُمْ، فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَكَانَ، فَقَالُوا: اللَّهُمَّ أَبْلِغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ، فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا، قَالَ: فَأَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ، فَطَعَنَهُ بِرُمْحِهِ حَتَّى أَنْفَذَهُ، فَقَالَ: فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَة، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" إِنَّ إِخْوَانَكُمْ الَّذِينَ قُتِلُوا، قَالُوا لِرَبِّهِمْ: بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا، أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ، فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیج دیجئے جو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیم دیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ کو بھیج دیا جنہیں قراء کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حرام بھی تھے، یہ لوگ رات کو قرآن پڑھتے تھے اور دن کو پانی لا کر مسجد میں رکھتے تھے اور لکڑیاں کاٹ کر بیچتے اور ان سے اہل صفہ اور فقراء کے لئے کھانا خرید کر لاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھیج دیا، لے جانے والوں نے انہیں متفرق کر کے اپنے علاقے میں پہنچنے سے پہلے ہی شہید کردیا، وہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے اور تو ہم سے راضی ہوگیا، اسی اثناء میں ایک آدمی حضرت حرام رضی اللہ عنہ " میرے ماموں " کے پاس پیچھے سے آیا اور ایسا نیزہ مارا کہ آر پار کردیا، وہ کہنے لگے رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے بھائی جو شہید ہوگئے ہیں، انہوں نے اپنے رب سے عرض کیا کہ ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے اور تو ہم سے راضی ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13854]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4092، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4092، م: 677
← پچھلی حدیث (13853) باب پر واپس اگلی حدیث (13855) →