بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 12458
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 12458
حدیث نمبر: 12458 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٌ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ الْمَعْنَى، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول: لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ أَتَعْرِفِينَ فُلَانَةَ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ تَبْكِي عَلَى قَبْرٍ، فَقَالَ لَهَا:" اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي"، فَقَالَتْ لَهُ: إِليكَ عَنِّي، فَإِنَّكَ لَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي، قَالَ: وَلَمْ تَكُنْ عَرَفَتْهُ، فَقِيلَ لَهَا: إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ، فَجَاءَتْ إِلَى بَابِهِ، فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ:" إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کی کسی خاتون سے فرمایا کہ تم فلاں عورت کو جانتی ہو؟ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ ایک قبر پر رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو، وہ کہنے لگی کہ مجھ سے پیچھے ہی رہو تمہیں میری مصیبت کا کیا پتہ، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہچان نہ سکی، کسی نے بعد میں اسے بتایا کہ یہ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے، یہ سن کر اس پر موت طاری ہوگئی اور فوراً نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، وہاں اسے کوئی دربان نظر نہ آیا اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آپ کو پہچان نہ پائی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12458]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7154، م: 926
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7154، م: 926
← پچھلی حدیث (12457) باب پر واپس اگلی حدیث (12459) →