هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ، فَيَسْأَلُهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ:" يَا مُحَمَّدُ، أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟، قَالَ:" اللَّهُ"، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟، قَالَ:" اللَّهُ"، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ، وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ؟، قَالَ:" اللَّهُ"، قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ، وَخَلَقَ الْأَرْضَ، وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا، قَالَ:" نَعَمْ صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: ثُمَّ وَلَّى، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَئِنْ صَدَقَ، لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (چونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بکثرت سوال کرنے سے ہمیں قرآن میں ممانعت کردی گئی تھی، اس لئے ہم دل سے خواہش مند ہوتے تھے کہ کوئی عقل مند بدوی آکر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی مسئلہ دریافت کرے اور ہم سنیں چنانچہ (ایک مرتبہ) بدوی نے حاضر ہو کر (حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا تھا اور کہتا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھ کو پیغمبر بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا تھا، بدوی بولا آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے، بدوی بولا آپ کو قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، پہاڑوں کو قائم کیا (یہ بتائیے کہ) کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! بدوی بولا آپ کا قاصد کہتا ہے کہ ہم پر دان رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے ٹھیک کہا، بدوی بولا آب کو اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے (بتایئے) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! بدوی بولا آپ کے قاصد نے کہا تھا کہ ہم پر اپنے مال کی زکوٰۃ نکالنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس نے کہا کہ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو بھیجا کیا اس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا ہاں! اس نے کہا کہ آپ کے قاصد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم پر سال میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے (یہ بتائیے کہ) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! بدوی بولا آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر کعبہ کا حج فرض ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا! آخر کار وہ بدوی پیٹھ کر جاتے ہوئے کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں کروں گا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12457]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 12
الحكم: إسناده صحيح، م: 12