حَجَّاجٌ ، وَهَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَهَاشِمٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَتَّى إِذَا رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ فَرَغْتُ مِنْ خِدْمَتِهِ قُلْتُ: يَقِيلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ إِلَى صِبْيَانٍ يَلْعَبُونَ، قَالَ: فَجِئْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى الصِّبْيَانِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ لَهُ، فَذَهَبْتُ فِيهَا، وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَيْءٍ حَتَّى أَتَيْتُهُ، وَاحْتَبَسْتُ عَنْ أُمِّي عَنِ الْإِتْيَانِ الَّذِي كُنْتُ آتِيهَا فِيهِ، فَلَمَّا أَتَيْتُهَا قَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ، قَالَتْ: وَمَا هِيَ؟ قُلْتُ: هُوَ سِرٌّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَاحْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ، قَالَ ثَابِتٌ: فقَالَ لِي أَنَسٌ: لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَوْ لَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهِ لَحَدَّثْتُكَ بِهِ يَا ثَابِتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت سے جب فارغ ہوا تو میں نے سوچا کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیلولہ کریں گے، چنانچہ میں بچوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا، میں ابھی ان کا کھیل دیکھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگئے اور بچوں کو " جو کھیل رہے تھے " سلام کیا اور مجھے بلا کر اپنے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا، جب میں گھر واپس پہنچا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کہ کیا کام تھا؟ میں نے کہا کہ یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، ثابت! اگر وہ راز میں کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13022]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2482، وانظر: 12724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2482، وانظر: 12724