عَبْدُ الرَّازَّقِ ، مَعْمَرٌ ، عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ، مَا وَجَدَ عَلَى أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ أَصْحَابِ سَرِيَّةِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو، فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى الَّذِينَ أَصَابُوهُمْ فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَلِحْيَانَ، وَهُمْ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، جنہوں نے انہیں شہید کردیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13027]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1300 م:677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1300 م:677