عَبْدُ الرَّازَّقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ، كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ، فَرَأَى أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، وَهُوَ يَتَبَسَّمُ، قَالَ: وَكِدْنَا أَنْ نُفْتَتَنَ فِي صَلَاتِنَا فَرَحًا لِرُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَنْكُصَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ كَمَا أَنْتَ، ثُمَّ أَرْخَى السِّتْرَ، فَقُبِضَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ، فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنَّ رَبَّهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ كَمَا أَرْسَلَ إِلَى مُوسَى، فَمَكَثَ عَنْ قَوْمِهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِي رِجَالٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَأَلْسِنَتَهُمْ، يَزْعُمُونَ أَوْ قَالَ: يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیر کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارک کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر ہمیں اتنی خوشی ہوئی، قریب تھا کہ ہم آزمائش میں پڑجاتے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے حرکت کرنا چاہی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال نہیں ہوا ہے، ان کے پاس ان کے رب نے ویسا ہی پیغام بھیجا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور وہ چالیس راتوں تک اپنی قوم سے دور رہے تھے، بخدا! مجھے امید ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوبارہ جسمانی حیات پائیں گے تاکہ ان منافقین کے ہاتھ اور زبانیں کاٹ دیں جو یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13028]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 754 م:419
الحكم: إسناده صحيح، خ: 754 م:419