عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ مُرَّ بِجِنَازَةٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ" أَثْنُوا عَلَيْهَا" فَقَالُوا: كَانَ مَا عَلِمْنَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا، فَقَالَ:" وَجَبَتْ" ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالَ:" أَثْنُوا عَلَيْهَا" فَقَالُوا: بِئْسَ الْمَرْءُ كَانَ فِي دِينِ اللَّهِ، فَقَالَ:" وَجَبَتْ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، پھر کئی لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، ان کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13039]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2642، م: 949
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2642، م: 949