عَبْدُ الرَّازَّقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسٍ ، قَالَ:" خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، لَا وَاللَّهِ مَا سَبَّنِي سَبَّةً قَطُّ، وَلَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ، وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ لِمَ فَعَلْتَهُ؟ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ أَلَّا فَعَلْتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفر وحضر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13034]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،خ: 2768 م: 2309
الحكم: إسناده صحيح،خ: 2768 م: 2309