بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 36 از 86
حدیث نمبر: 2538 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قُلْتُ: إِنَّا نَغْزُو هَذَا الْمَغْرِبَ، وَأَكْثَرُ أَسْقِيَتِهِمْ جُلُودُ الْمَيْتَةِ؟ قَالَ: فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" دِبَاغُهَا طُهُورُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن وعلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ہم لوگ اہل مغرب سے جہاد کرتے ہیں اور ان کے مشکیزے عام طور پر مردار کی کھال کے ہوتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2538]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 366
الحكم: إسناده صحيح، م: 366
حدیث نمبر: 2539 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي حَسَّانَ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ , أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ، قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ، قَالَ هَمَّامٌ: يَعْنِي كُلُّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ , فَقَالَ:" سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ , قَالَ هَمَّامٌ: يَعْنِي مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گزرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2539]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1244
الحكم: إسناده صحيح، م: 1244
حدیث نمبر: 2540 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ ، الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ أَخُو عِيسَى النَّحْوِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، قَالَ:" جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ بِئْرِ زَمْزَمَ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ عَاشُورَاءَ؟ فَقَالَ: عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ: عَنْ صِيَامِهِ , قَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِهِ، فَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ" , قُلْتُ: أَهَكَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ چاہ زمزم کے قریب اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2540]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2541 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، طَاوُسًا ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ طَاوُسًا قَالَ , حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ، يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2541]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2330، م: 155
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2330، م: 155
حدیث نمبر: 2542 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا، قَالَ: فَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا، قَالَ: وَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ: إِنَّ مَوَالِيَهَا اشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ" , وَخَيَّرَهَا، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ , قَالَ: وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ، فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَإِلَيْنَا هَدِيَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا جس کا نام مغیث تھا، میں اسے دیکھتا تھا کہ وہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے مدینہ منورہ کی گلیوں میں پھر رہا ہوتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے متعلق چار فیصلے فرمائے تھے، سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے آقاؤں نے اس کی فروخت کو اپنے لئے ولاء کے ساتھ مشروط کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا تھا کہ ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں خیار عتق دیا، انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں عدت گذارنے کا حکم دیا، اور یہ کہ ایک مرتبہ کسی نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں کوئی چیز دی، انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بطور ہدیہ کے بھیج دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔ (کیونکہ ملکیت تبدیل ہو گئی ہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2542]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5280
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5280
حدیث نمبر: 2543 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ ، وَعِكْرِمَةَ ، بن عباس
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ ، وَعِكْرِمَةَ , قَالَا: قَالَ عُمَرُ: مَنْ يَعْلَمُ مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَا: فقال بن عباس : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ فِي الْعَشْرِ، فِي سَبْعٍ يَمْضِينَ، أَوْ سَبْعٍ يَبْقَيْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: لیلۃ القدر کے بارے کون جانتا ہے کہ وہ کب ہوتی ہے؟ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ شب قدر رمضان کے عشرہ اخیرہ میں ہوتی ہے، سات راتیں گزرنے پر (ستائیسویں شب) یا سات راتیں باقی رہ جانے پر (تئیسویں شب)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2543]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2022
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2022
حدیث نمبر: 2544 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصَّفَا , فَقَالَ:" يَا صَبَاحَاهْ، يَا صَبَاحَاهْ" , قَالَ: فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ قُرَيْشٌ، فَقَالُوا لَهُ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ مُصَبِّحُكُمْ أَوْ مُمَسِّيكُمْ، أَمَا كُنْتُمْ تُصَدِّقُونِي؟" , فَقَالُوا: بَلَى , قَالَ: فَقَالَ:" إِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ" , قَالَ: فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا؟ تَبًّا لَكَ , قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ سورة المسد آية 1 , إِلَى آخِرِ السُّورَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اس وقت کے رواج کے مطابق لوگوں کو جمع کرنے کے لئے «يا صباحاه» کہہ کر آواز لگائی، جب قریش کے لوگ جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام میں کسی وقت حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ سب نے کہا: کیوں نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر میں تمہیں ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں، ابولہب کہنے لگا کہ کیا تم نے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا، تم ہلاک ہو (العیاذ باللہ)، اس پر سورہ لہب نازل ہوئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2544]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4801، م: 208
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4801، م: 208
حدیث نمبر: 2545 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَهَيْبٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وَهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْكُلُ عَرْقًا مِنْ شَاةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يُمَضْمِضْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2545]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 354، 359
الحكم: إسناده صحيح، م: 354، 359
حدیث نمبر: 2546 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، فقَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي قَدْ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ، وَلَا فَخْرَ، آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي، وَلَا فَخْرَ , وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ، فَْيَشْفَعْ إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَلاَمَ، فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ , أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَدْ أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا رَأْسَ النَّبِيِّينَ , فَيَأْتُونَ نُوحًا، فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي دَعَوْتُ بِدَعْوَةٍ أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ , فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَيَقُولُونَ: يَا إِبْرَاهِيمُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كِذْبَاتٍ، وَاللَّهِ إِنْ حَاوَلَ بِهِنَّ إِلَّا عَنْ دِينِ اللَّهِ: قَوْلُهُ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89 , وَقَوْلُهُ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ سورة الأنبياء آية 63 , وَقَوْلُهُ لِامْرَأَتِهِ حِينَ أَتَى عَلَى الْمَلِكِ: أُخْتِي، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَامِهِ , فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى، أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَّمَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ , فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي اتُّخِذْتُ إِلَهًا مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ مَخْتُومٍ عَلَيْهِ، أَكَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا , قَالَ: فَيَقُولُ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَقَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ" , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَيَأْتُونِي فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، لِمَنْ شَاءَ وَيَرْضَى، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ: أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ؟ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ، نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ، وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ، فَتُفْرَجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا، فَنَمْضِي غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ، فَتَقُولُ الْأُمَمُ: كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلُّهَا، فَنَأْتِي بَابَ الْجَنَّةِ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ، فَأَقْرَعُ الْبَابَ، فَيُقَالُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: أَنَا مُحَمَّدٌ، فَيُفْتَحُ لِي، فَآتِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَوْ سَرِيرِهِ، شَكَّ حَمَّادٌ، فَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي، وَلَيْسَ يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَرْفَعُ رَأْسِي , فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي , فَيَقُولُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا، لَمْ يَحْفَظْ حَمَّادٌ، ثُمَّ أُعِودُ , فَأَسْجُدُ، فَأَقُولُ مَا قُلْتُ، فَيُقَالُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي , فَيَقُولُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا، دُونَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ أُعِودُ، فَأَسْجُدُ، فَأَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَيُقَالُ لِيَ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي , فيَقولَ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا، دُونَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جامع بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کی کم از کم ایک دعا ایسی ضرور تھی جو انہوں نے دنیا میں پوری کروا لی، لیکن میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کر لیا ہے، میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا جس سے زمین کو ہٹایا جائے گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میرے ہی ہاتھ میں لواء الحمد (حمد کا جھنڈا) ہوگا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔ قیامت کا دن لوگوں کو بہت لمبا محسوس ہوگا، وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ آؤ، حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلتے ہیں، وہ ابوالبشر ہیں کہ وہ ہمارے پروردگار کے سامنے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب کتاب شروع کر دے، چنانچہ سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے آدم! آپ وہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنے دست مبارک سے پیدا فرمایا، اپنی جنت میں ٹھہرایا، اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا، آپ پروردگار سے سفارش کر دیں کہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ کہیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، مجھے میری ایک خطا کی وجہ سے جنت سے نکال دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو تمام انبیاء علیہم السلام کی جڑ ہیں۔ چنانچہ ساری مخلوق اور تمام انسان حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے نوح! آپ ہمارے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعا مانگی تھی جس کی وجہ سے زمین والوں کو غرق کر دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے ابراہیم! آپ ہمارے رب سے سفارش کریں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے زمانہ اسلام میں تین مرتبہ ذو معنی لفظ بولے تھے جن سے مراد واللہ! دین ہی تھا (ایک تو اپنے آپ کو بیمار بتایا تھا، دوسرا یہ فرمایا تھا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے، اور تیسرا یہ کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اپنی بہن قرار دیا تھا) آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت موسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، جنہیں اللہ نے اپنی پیغامبری اور اپنے کلام کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ اب سارے لوگ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے موسی! آپ ہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنی پیغمبری کے لئے منتخب کیا اور آپ سے بلا واسطہ کلام فرمایا، آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیں، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک شخص کو بغیر کسی نفس کے بدلے کے قتل کر دیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، چنانچہ سب لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر مجھے معبود بنا لیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ یہ بتاؤ کہ اگر کوئی چیز کسی ایسے برتن میں پڑی ہوئی ہو جس پر مہر لگی ہوئی ہو، کیا مہر توڑے بغیر اس برتن میں موجود چیز کو حاصل کیا جا سکتا ہے؟ لوگ کہیں گے: نہیں، اس پر حضرت عیسی علیہ السلام فرمائیں گے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام کی مہر ہیں، آج وہ یہاں موجود بھی ہیں اور ان کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف بھی ہو چکے ہیں (لہذا تم ان کے پاس جاؤ)۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ سب میرے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اپنے رب سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمائیں گے کہ ہاں! میں اس کا اہل ہوں، یہاں تک کہ اللہ ہر اس شخص کو اجازت دے دے جسے چاہے اور جس سے خوش ہو، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو ایک منادی اعلان کرے گا کہ احمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی امت کہاں ہے؟ ہم سب سے آخر میں آئے اور سب سے آگے ہوں گے، ہم سب سے آخری امت ہیں لیکن سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور ساری امتیں ہمارے لئے راستہ چھوڑ دیں گی اور ہم اپنے وضو کے اثرات سے روشن پیشانیوں کے ساتھ روانہ ہو جائیں گے، دوسری امتیں یہ دیکھ کر کہیں گی کہ اس امت کے تو سارے لوگ ہی نبی محسوس ہوتے ہیں۔ بہرحال! میں جنت کے دروازے پر پہنچ کر دروازے کا حلقہ پکڑ کر اسے کھٹکھٹاؤں گا، اندر سے پوچھا جائے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ میں محمد ہوں ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) چنانچہ دروازہ کھول دیا جائے گا، میں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوں گا جو اپنے تخت پر رونق افروز ہوگا، میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا اور اس کی ایسی تعریف کروں گا کہ مجھ سے پہلے کسی نے ایسی تعریف کی ہوگی اور نہ بعد میں کوئی کر سکے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد! سر تو اٹھایئے، آپ جو مانگیں گے آپ کو ملے گا، جو بات کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی اور جس کی سفارش کریں گے قبول ہوگی، میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا کہ پروردگار! میری امت، میری امت۔ ارشاد ہوگا کہ جس کے دل میں اتنے مثقال (راوی اس کی مقدار یاد نہیں رکھ سکے) کے برابر ایمان ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے، ایسا کر چکنے کے بعد میں دوبارہ واپس آؤں گا اور اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر حسب سابق اس کی تعریف کروں گا اور مذکورہ سوال جواب کے بعد مجھ سے کہا جائے گا کہ جس کے دل میں اتنے مثقال (پہلے سے کم مقدار میں) ایمان موجود ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے، تیسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوگا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2546]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، دون قول عيسى عليه السلام: إني اتخذت إلها من دون الله، فإنه مخالف لما فى الصحيح من أن عيسى لم يذكر ذنبة، ثم إن هذا لا يعد ذنبا له، وإسناد هذا الحديث ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حسن لغيره، دون قول عيسى عليه السلام: إني اتخذت إلها من دون الله، فإنه مخالف لما فى الصحيح من أن عيسى لم يذكر ذنبة، ثم إن هذا لا يعد ذنبا له، وإسناد هذا الحديث ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 2547 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، فَقَالَ: أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ، فَقِيلَ لِي: إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ , قَالَ: فَقُمْتُ، وَأَنَا نَاعِسٌ، فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي، قال: فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ، فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں سو رہا تھا، خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ آج کی رات شب قدر ہے، میں اٹھ بیٹھا، اس وقت مجھ پر اونگھ کا غلبہ تھا، میں اسے دور کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خیمے کی ایک چوب سے لٹک گیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے جب غور کیا تو وہ تئیسویں رات تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2547]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2548 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، أَبِي الْمِنْهَالِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ، فَقَالَ:" مَنْ أَسْلَفَ فَلَا يُسْلِفْ إِلَّا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھجور میں بیع سلم کرے، اسے چاہئے کہ اس کی ماپ معین کرے اور اس کا وزن معین کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2548]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2239، م: 1604
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2239، م: 1604
حدیث نمبر: 2549 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت الخلاء سے باہر نکلے، آپ کے پاس کھانا لایا گیا، کسی نے عرض کیا کہ جناب والا وضو نہیں فرمائیں گے؟ فرمایا: مجھے وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کروں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2549]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 374
الحكم: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 2550 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ ، لِعِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ: قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ : إِنِّي أَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ب قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَإِنَّ نَاسًا يَعِيبُونَ ذَلِكَ عَلَيَّ؟ فَقَالَ: وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ؟ اقْرَأْهُمَا فَإِنَّهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حنظلہ سدوسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ سے عرض کیا کہ میں مغرب میں معوذتین کی قرأت کرتا ہوں لیکن کچھ لوگ مجھے اس پر معیوب ٹھہراتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس میں کیا حرج ہے؟ تم ان دونوں سورتوں کو پڑھ سکتے ہو کیونکہ یہ دونوں بھی قرآن کا حصہ ہیں، پھر فرمایا کہ مجھ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں جن میں سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2550]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف حنظلة السدوسي
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف حنظلة السدوسي
حدیث نمبر: 2551 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِقَوْمٍ مِنْ هَؤُلَاءِ الزَّنَادِقَةِ وَمَعَهُمْ كُتُبٌ، فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ، ثُمَّ أَحْرَقَهُمْ وَكُتُبَهُمْ، قَالَ عِكْرِمَةُ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ، لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَقَتَلْتُهُمْ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ" , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ زندیق لائے گئے، ان کے پاس کچھ کتابیں بھی تھیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حکم پر آگ دہکائی گئی اور پھر انہوں نے ان لوگوں کو ان کی کتابوں سمیت نذر آتش کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا: اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کو نہ دو، بلکہ میں انہیں قتل کر دیتا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2551]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6922
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6922
حدیث نمبر: 2552 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا أَخَذَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، فَحَرَّقَهُمْ بِالنَّارِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَدًا" , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَدَّلَ دَيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ" , فَبَلَغَ عَلِيًّا مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: وَيْحَ ابْنِ أُمِّ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ مرتدین کو نذر آتش کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا: اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کو نہ دو، بلکہ میں انہیں قتل کر دیتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر اظہار افسوس کیا (کہ یہ بات پہلے سے معلوم کیوں نہ ہو سکی؟)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2552]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3017
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3017
حدیث نمبر: 2553 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، عَمَّارٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَمَّارٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ، وَهُوَ قَائِمٌ، أَشْعَثَ أَغْبَرَ، بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ، لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ" , فَأَحْصَيْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَوَجَدُوهُ قُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نصف النہار کے وقت خواب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال بکھرے ہوئے اور جسم پر گرد و غبار تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک بوتل تھی جس میں وہ کچھ تلاش کر رہے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ فرمایا: یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں صبح سے اس کی تلاش میں لگا ہوا ہوں، راوی حدیث عمار کہتے ہیں کہ ہم نے وہ تاریخ اپنے ذہن میں محفوظ کر لی، بعد میں پتہ چلا کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اسی تاریخ اور اسی دن شہید ہوئے تھے (جس دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خواب دیکھا تھا)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2553]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2554 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ بَعْدَ مَا دُفِنَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی شخص کے قبر میں مدفون ہونے کے بعد نماز جنازہ پڑھائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2554]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1247، م: 954
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1247، م: 954
حدیث نمبر: 2555 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ , قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي، فَيُولَدُ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ، فيَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ملاقات کے لئے آ کر یہ دعا پڑھ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي» اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطا فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2555]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 141، م: 1434
الحكم: إسناده صحيح، خ: 141، م: 1434
حدیث نمبر: 2556 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلِّمُوا، وَيَسِّرُوا، وَلَا تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کو علم سکھاؤ، آسانیاں پیدا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو، اور تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کر لینا چاہئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2556]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الاختلاط ليث بن أبى سليم، وقوله: علموا ، ويسروا، ولا تعسرواه صحيح لغيره
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الاختلاط ليث بن أبى سليم، وقوله: علموا ، ويسروا، ولا تعسرواه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2557 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ، فِي غَيْرِ سَفَرٍ وَلَا خَوْفٍ" قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، وَلِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشا کو جمع فرمایا، اس وقت نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2557]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 705
الحكم: إسناده صحيح، م: 705