بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 19 از 86
حدیث نمبر: 2198 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانَ ، قَتَادَةَ ، أَبُو الْعَالِيَةِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّث أَبُو الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2198]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3239، م: 165
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3239، م: 165
حدیث نمبر: 2199 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ أَنْ لَا يُدْعَى لِأَبٍ، وَمَنْ رَمَاهَا، أَوْ رَمَى وَلَدَهَا، فَإِنَّهُ يُجْلَدُ الْحَدَّ، وَقَضَى أَنْ لَا قُوتَ لَهَا عليه وَلَا سُكْنَى، مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ، وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعان کرنے والی عورت کی اولاد کے متعلق یہ فیصلہ فرما دیا کہ اس عورت کی اولاد کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے، جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائے گا، اسے سزا دی جائے گی، نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ اس عورت کی رہائش بھی اس کے شوہر کے ذمے نہیں ہے اور نان نفقہ بھی، کیونکہ ان دونوں کے درمیان طلاق یا وفات کے بغیر جدائی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2199]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فيه عباد بن منصور، تكلم فيه وفي سماعه من عكرمة
الحكم: إسناده ضعيف، فيه عباد بن منصور، تكلم فيه وفي سماعه من عكرمة
حدیث نمبر: 2200 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُمَا مُحْرِمَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2200]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. وقوله فى هذا الطريق : «وهما محرمان» وهم، والصواب : «وهو محرم»
الحكم: إسناده صحيح. وقوله فى هذا الطريق : «وهما محرمان» وهم، والصواب : «وهو محرم»
حدیث نمبر: 2201 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءٍ الْعَطَّارِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْعَطَّارِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ دِينَارٍ" , يَعْنِي: الَّذِي يَغْشَى امْرَأَتَهُ حَائِضًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2201]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفاً ، وهذا إسناد ضعيف جداً ، عطاء العطار ضعيف جداً
الحكم: صحيح موقوفاً ، وهذا إسناد ضعيف جداً ، عطاء العطار ضعيف جداً
حدیث نمبر: 2202 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، فَقَالَ:" أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْك؟" , قَالَ: وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي؟ قَالَ:" بَلَغَنِي أَنَّكَ فَجَرْتَ بِأَمَةِ آلِ فُلَانٍ؟" , قَالَ: نَعَمْ , فَرَدَّهُ حَتَّى شَهِدَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: تمہارے بارے مجھے جو بات معلوم ہوئی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا بات میرے متعلق معلوم ہوئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سے آل فلاں کی باندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے؟ انہوں نے اس کی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں واپس بھیج دیا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کر لیا، تب کہیں جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2202]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 1693
الحكم: إسناده حسن، م: 1693
حدیث نمبر: 2203 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا آخُذُ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ، فَأَدُسُّهُ فِي فِي فِرْعَوْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: کاش! آپ نے مجھے اس وقت دیکھا ہوتا جب میں سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں بھر رہا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2203]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد و يوسف بن مهران لين الحديث
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد و يوسف بن مهران لين الحديث
حدیث نمبر: 2204 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے مزدلفہ سے سامان کے ساتھ رات ہی کو بھیج دیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2204]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1677، م: 1293
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1677، م: 1293
حدیث نمبر: 2205 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ، فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک مرتبہ مجھ سے جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطاء کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2205]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد، و يوسف بن مهران لين
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد، و يوسف بن مهران لين
حدیث نمبر: 2206 مسند احمد
يُونُسُ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَفَّانُ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَعَفَّانُ , قالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ عَفَّانُ , أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ، فَقَالَ: امْرَأَةٌ جَاءَتْ تُبَايِعُهُ، فَأَدْخَلْتُهَا الدَّوْلَجَ، فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ , فَقَالَ: وَيْحَكَ! لَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: أَجَلْ , قَالَ: فائْتِ أَبَا بَكْرٍ، فَاسْأَلْهُ , قَالَ: فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ , فَقَالَ: لَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَر، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ:" فَلَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟" , وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلِي خَاصَّةً، أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟ فَضَرَبَ عُمَرُ صَدْرَهُ بِيَدِهِ، فَقَال: لَا , وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ، بَلْ لِلنَّاسِ عَامَّةً , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ عُمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ ایک شخص کے پاس کچھ خریداری کرنے کے لئے آئی، اس نے اس عورت سے کہا کہ گودام میں آجاؤ، میں تمہیں وہ چیز دے دیتا ہوں، وہ عورت جب گودام میں داخل ہوئی تو اس نے اسے بوسہ دے دیا اور اس سے چھیڑ خانی کی، اس عورت نے کہا کہ افسوس! میرا تو شوہر بھی غائب ہے، اس پر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اپنی حرکت پر نادم ہوا، پھر وہ) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس مسئلے کا حل تم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے معلوم کرو، چنانچہ اس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا، پھر انہوں نے اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس عورت کا خاوند موجود نہیں ہوگا؟ اور اس کے متلعق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوگئی: « ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ . . .﴾ [هود: 114] » دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کیجئے، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں . . .۔ اس آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا قرآن کریم کا یہ حکم خاص طور پر میرے لئے ہے یا سب لوگوں کے لئے یہ عمومی حکم ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: تو اتنا خوش نہ ہو، یہ سب لوگوں کے لئے عمومی حکم ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ عمر نے سچ کہا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2206]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره. وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد، و يوسف بن مهران لين
الحكم: صحيح لغيره. وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد، و يوسف بن مهران لين
حدیث نمبر: 2207 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ، فَقَالَ:" أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے، اس وقت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، ہم نے انہیں یہی عام پانی پینے کے لئے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا اور آئندہ بھی اسی طرح کیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2207]
حکم دارالسلام
حديث صحيح. وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، و يوسف بن مهران لين
الحكم: حديث صحيح. وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، و يوسف بن مهران لين
حدیث نمبر: 2208 مسند احمد
مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، سَالِماً الْأَفْطَسُ الْجَزَرِيُّ ابْنُ عَجْلَانَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ: مَا أَحْفَظُهُ إِلَّا سَالِماً الْأَفْطَسُ الْجَزَرِيُّ ابْنُ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ: شَرْبَةِ عَسَلٍ، وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ، وَكَيَّةِ بنَارٍ، وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین چیزوں میں شفا ہے، شہد پینے میں، سینگی لگوانے میں اور آگ کے ذریعے زخم کو داغنے میں، لیکن میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2208]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5680
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5680
حدیث نمبر: 2209 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، وَيَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قال عبد الله بن أحمد: قال أبي , وَيَعْقُوبُ , حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ قَالَ يَعْقُوبُ: أَشْعَارَهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ وَيُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ"، قَالَ يَعْقُوبُ: فِي بَعْضِ مَا لَمْ يُؤْمَرْ، قَالَ إِسْحَاقُ: فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ، فَسَدَلَ نَاصِيَتَهُ، ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2209]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5917، م: 2336
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5917، م: 2336
حدیث نمبر: 2210 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، عبد الله ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَنْ يَسَارِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأَنَا أَتْلُوهُمَا فِي ظُهُورِهِمَا، أَسْمَعُ كَلَامَهُمَا، فَطَفِقَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ رُكْنَ الْحَجَرَ، فَقَالَ لَهُ عبد الله ابْنُ عَبَّاسٍ :" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَلِمْ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ" , فَيَقُولُ مُعَاوِيَةُ دَعْنِي مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْهَا شَيْءٌ مَهْجُورٌ , فَطَفِقَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَزِيدُهُ، كُلَّمَا وَضَعَ يَدَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنَ الرُّكْنَيْنِ، قَالَ لَهُ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، ان کی بائیں جانب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور ان دونوں کے پیچھے میں تھا اور ان دونوں حضرات کی باتیں سن رہا تھا، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جب حجر اسود کا استلام کرنے لگے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دو کونوں کا (جو اب آئیں گے) استلام نہیں کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ابن عباس! مجھے چھوڑ دیجئے، کیونکہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے، لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جب کسی رکن پر ہاتھ رکھتے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان سے برابر یہی کہتے رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2210]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2211 مسند احمد
يُونُسُ ، دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا: عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ مِنْ قَابِلٍ، وَعُمْرَةَ الثَّالِثَةِ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف چار مرتبہ عمرہ کیا ہے، ایک مرتبہ حدیبیہ سے، ایک مرتبہ ذیقعدہ کے مہینے میں اگلے سال عمرۃ القضاء، ایک مرتبہ جعرانہ سے اور چوتھی مرتبہ اپنے حج کے موقع پر۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2211]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2212 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ: وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سورة المائدة آية 44 وَ أُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ سورة المائدة آية 45 وَ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ سورة المائدة آية 47 , قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنْزَلَهَا اللَّهُ فِي الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ الْيَهُودِ، وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ قَهَرَتْ الْأُخْرَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ، حَتَّى ارْتَضَوْا واصْطَلَحُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الْعَزِيزَةُ مِنَ الذَّلِيلَةِ، فَدِيَتُهُ خَمْسُونَ وَسْقًا، وَكُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ، فَدِيَتُهُ مِائَةُ وَسْقٍ، فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَذَلَّتْ الطَّائِفَتَانِ كِلْتَاهُمَا لِمَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ورَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَمْ يَظْهَرْ، وَلَمْ يُوطِئْهُمَا عَلَيْهِ، وَهُوَ فِي الصُّلْحِ، فَقَتَلَتْ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ قَتِيلًا، فَأَرْسَلَتْ الْعَزِيزَةُ إِلَى الذَّلِيلَةِ: أَنْ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِمِائَةِ وَسْقٍ، فَقَالَتْ الذَّلِيلَةُ: وَهَلْ كَانَ هَذَا فِي حَيَّيْنِ قَطُّ دِينُهُمَا وَاحِدٌ، وَنَسَبُهُمَا وَاحِدٌ، وَبَلَدُهُمَا وَاحِدٌ، دِيَةُ بَعْضِهِمْ نِصْفُ دِيَةِ بَعْضٍ؟ إِنَّا إِنَّمَا أَعْطَيْنَاكُمْ هَذَا ضَيْمًا مِنْكُمْ لَنَا، وَفَرَقًا مِنْكُمْ، فَأَمَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ فَلَا نُعْطِيكُمْ ذَلِكَ , فَكَادَتْ الْحَرْبُ تَهِيجُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ ارْتَضَوْا عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ ذَكَرَتْ الْعَزِيزَةُ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ , مَا مُحَمَّدٌ بِمُعْطِيكُمْ مِنْهُمْ ضِعْفَ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْكُمْ، وَلَقَدْ صَدَقُوا، مَا أَعْطَوْنَا هَذَا إِلَّا ضَيْمًا مِنَّا، وَقَهْرًا لَهُمْ، فَدُسُّوا إِلَى مُحَمَّدٍ مَنْ يَخْبُرُ لَكُمْ رَأْيَهُ: إِنْ أَعْطَاكُمْ مَا تُرِيدُونَ حَكَّمْتُمُوهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِكُمْ حَذِرْتُمْ، فَلَمْ تُحَكِّمُوهُ , فَدَسُّوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ لِيَخْبُرُوا لَهُمْ رَأْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ بِأَمْرِهِمْ كُلِّهِ وَمَا أَرَادُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الرَّسُولُ لا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ سورة المائدة آية 41 - 47" , ثُمَّ قَالَ: فِيهِمَا وَاللَّهِ نَزَلَتْ، وَإِيَّاهُمَا عَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات جو نازل فرمائی ہیں: « ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ . . . فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ . . . فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [المائدة: 44-47] » جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ کافر ہیں، . . . وہ ظالم ہیں، . . . وہ فاسق ہیں۔ یہ یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے نازل ہوئی تھیں، زمانہ جاہلیت میں ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر غالب آگیا تھا اور ان لوگوں میں اس فیصلے پر رضا مندی کے ساتھ صلح ہوگئی تھی کہ غالب آنے والے قبیلے نے مغلوب قبیلے کے جس آدمی کو بھی قتل کیا ہوگا، اس کی دیت پچاس وسق ہوگی اور مغلوب قبیلے نے غالب قبیلے کے جس آدمی کو قتل کیا ہوگا، اس کی دیت سو وسق ہوگی، یہ لوگ اس معاہدے پر برقرار رہے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد یہ دونوں گروہ ہی مغلوب ہو کر رہ گئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان پر کوئی لشکر کشی نہ فرمائی اور نہ ان کی زمینوں کو روندا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے معاہدہ صلح کر لیا، اس دوران مغلوب قبیلے نے غالب قبیلے کے ایک آدمی کو قتل کر دیا، اس غالب قبیلے نے مغلوب قبیلے والوں کو کہلا بھیجا کہ ہمیں دیت کے سو وسق بھیجو، مغلوب قبیلے والوں نے کہا کہ کیا یہ بات کبھی ان قبیلوں میں ہو سکتی ہے جن کا دین بھی ایک ہو، نسب بھی ایک ہو اور شہر بھی ایک ہو؟ اور کسی کی دیت پوری اور کسی کی نصف ہو؟ پہلے ہم لوگ تمہیں یہ مقدار تمہارے ڈر اور خوف کی وجہ سے دیتے رہے، لیکن اب جبکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگئے ہیں، ہم تمہیں یہ دیت کسی صورت نہیں دے سکتے، قریب تھا کہ ان دونوں گروہوں میں جنگ چھڑ جائے کہ یہ دونوں گروہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم بنانے پر راضی ہوگئے۔ پھر غالب قبیلے کو یاد آیا اور وہ کہنے لگا کہ واللہ! محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں ان کی نسبت دگنی دیت نہیں دلوائیں گے، اور یہ لوگ کہہ بھی ٹھیک رہے ہیں کہ یہ ہمارے ڈر، خوف اور تسلط کی وجہ سے ہمیں دگنی دیت دیتے رہے ہیں، اس لئے کسی ایسے آدمی کو خفیہ طور پر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیجو جو ان کی رائے سے تمہیں باخبر کر سکے، اگر وہ تمہیں وہی دیت دلواتے ہیں جو تم چاہتے ہو تو انہیں اپنا حکم بنالو اور اگر وہ نہیں دلواتے تو تم ان سے اپنا دامن بچاؤ اور انہیں اپنا ثالث مقرر نہ کرو۔ چنانچہ انہوں نے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں خفیہ طور پر بھیجا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رائے معلوم کر کے اس کی مخبری کر سکیں، جب وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ان کی ساری تفصیلات اور ان کے عزائم سے باخبر کر دیا اور یہ آیات نازل فرمائیں: « ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا . . . . . وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [المائدة: 41-47] » اے پیغمبر! آپ کو وہ لوگ غم میں مبتلا نہ کر دیں جو کفر میں آگے بڑھتے ہیں ان لوگوں سے جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے . . . . . اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: واللہ! یہ آیت ان دونوں گروہوں کے بارے نازل ہوئی ہے اور اللہ نے اس آیت میں یہی دو گروہ مراد لئے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2212]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2213 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، خَالِدٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَسْتَمِعْ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ، وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ، وَمَنْ تَحَلَّمَ عُذِّبَ حَتَّى يَعْقِدَ شَعِيرَةً، وَلَيْسَ بِعَاقِدٍ، وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی گروہ کی کوئی ایسی بات سن لے جسے وہ اس سے چھپانا چاہتے ہوں تو اس کے دونوں کانوں میں قیامت کے دن عذاب انڈیلا جائے گا، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، اسے بھی قیامت کے دن عذاب ہوگا، اور اسے جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، اور جو شخص تصویر کشی کرتا ہے، اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونک کر دکھا، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2213]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7042، على بن عاصم يخطئ لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 7042، على بن عاصم يخطئ لكنه متابع
حدیث نمبر: 2214 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَلَابٍ ، الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، أَبَا عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَلَابٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِ السِّقَايَةِ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدة لَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ , أَخْبِرْنِي عَنْ عَاشُورَاءَ , قَالَ:" عَنْ أَيِّ بَالِهِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: عَنْ صِيَامِهِ , قَالَ:" إِذَا أَنْتَ أَهْلَلْتَ الْمُحَرَّمَ فَاعْدُدْ تِسْعًا، ثُمَّ أَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا" , قال: قُلْتُ: كَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیت السقایہ حاضر ہوا، وہ اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2214]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1133، على بن عاصم يخطئ لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 1133، على بن عاصم يخطئ لكنه متابع
حدیث نمبر: 2215 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا , وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَق".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا، اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا، اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2215]
حکم دارالسلام
حديث حسن، على بن عاصم متابع
الحكم: حديث حسن، على بن عاصم متابع
حدیث نمبر: 2216 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، دَاوُدُ ، عِكْرِمَةُ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: قال دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِدَاءٌ" فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ، قَالَ: فَجَاءَ يَوْمًا غُلَامٌ يَبْكِي إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي , قَالَ: الْخَبِيثُ، يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ! وَاللَّهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لئے کچھ بھی موجود نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا فدیہ اس طرح مقرر فرمایا کہ وہ انصاری بچوں کو کتابت سکھا دیں، ایک دن ایک بچہ اپنے باپ کے پاس روتا ہوا آیا، باپ نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ استاد نے مارا ہے، وہ کہنے لگا کہ خبیث! بدر کا انتقام لینا چاہتا ہے، آئندہ تم کبھی اس کے پاس نہیں جاؤ گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2216]
حکم دارالسلام
حسن، على بن عاصم فيه ضعف، لكنه متابع
الحكم: حسن، على بن عاصم فيه ضعف، لكنه متابع
حدیث نمبر: 2217 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ بِالشُّهَدَاءِ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمْ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ، وَقَالَ:" ادْفِنُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ احد کے دن شہداء کے متعلق یہ حکم دیا کہ ان سے لو ہے کے ہتھیار اور کھالیں اتار لی جائیں، اور فرمایا: انہیں ان کے خون کے ساتھ انہی کپڑوں میں دفن کر دو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2217]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، على ابن عاصم سيء الحفظ، وعطاء بن السائب مختلط
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، على ابن عاصم سيء الحفظ، وعطاء بن السائب مختلط