بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 4 از 86
حدیث نمبر: 1898 مسند احمد
سُفْيَانُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّوْحَاءِ، فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:" مَنَ الْقَوْمُ؟" , قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، قَالُوا فَمَنْ أَنْتُمْ؟: قَالَ:" رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , فَفَزِعَتْ امْرَأَةٌ، فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روحاء نامی جگہ میں تھے کہ سواروں کی ایک جماعت سے ملاقات ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور فرمایا: آپ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: مسلمان، پھر انہوں نے پوچھا کہ آپ کون لوگ ہیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا پیغمبر ہوں، یہ سنتے ہی ایک عورت جلدی سے گئی، اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1898]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1336.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1336.
حدیث نمبر: 1899 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1899]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1900 مسند احمد
سُفْيَانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ ، قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ أَحْفَظْ عَنْهُ غَيْرَهُ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السِّتَارَةِ، وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ، أَوْ تُرَى لَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا، أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مرض الوفات میں ایک مرتبہ اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا، لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! نبوت کی خوشخبری دینے والی چیزوں میں سوائے ان اچھے خوابوں کے کچھ باقی نہیں بچا جو ایک مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لئے کسی کو دکھائے جاتے ہیں، پھر فرمایا: مجھے رکوع یا سجدہ کی حالت میں تلاوت قرآن سے منع کیا گیا ہے، اس لئے تم رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدے میں خوب توجہ سے دعا مانگا کرو، امید ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوگی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1900]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 479.
الحكم: إسناده صحيح، م: 479.
حدیث نمبر: 1901 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کو اللہ کے عذاب جیسا عذاب نہ دو۔ (آگ میں جلا کر سزا نہ دو)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1901]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3017.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3017.
حدیث نمبر: 1902 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ، ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخُرْصَ، وَالْخَاتَمَ، وَالشَّيْءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1902]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1449، م: 886 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1449، م: 886 .
حدیث نمبر: 1903 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" شَرِبَ مِنْ دَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا"، قَالَ سَفْيَان: كَذَا أَحْسَبُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمزم کے کنوئیں سے ڈول نکال کر اس کا پانی کھڑے کھڑے پی لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1903]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027.
حدیث نمبر: 1904 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ جُدْعَانَ ، عَمْرِو بْنِ حَرْمَلَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ يَمِينِهِ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّرْبَةُ لَكَ، وَإِنْ شِئْتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا،" , قَالَ: مَا أُوثِرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ پی رہے تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پینے کا حق تو تمہارا ہے لیکن اگر تم چاہو تو میں خالد کو ترجیح دے کر یہ دے دوں؟ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چھوڑے ہوئے مشروب پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1904]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، ابن جدعان ضعيف وعمرو بن حرملة مجهول. وأصل القصة فى استئذان الصغير الجالس على اليمين ثابت فى «الصحيحين» من حديث سهل بن سعد.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، ابن جدعان ضعيف وعمرو بن حرملة مجهول. وأصل القصة فى استئذان الصغير الجالس على اليمين ثابت فى «الصحيحين» من حديث سهل بن سعد.
حدیث نمبر: 1905 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مَعْمَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، يَعْنِي ," اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى عَائِشَةَ، فَلَمْ يَزَلْ بِهَا بَنُو أَخِيهَا، قَالَتْ: أَخَافُ أَنْ يُزَكِّيَنِي، فَلَمَّا أَذِنَتْ لَهُ، قَالَ: مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ تَلْقَيْ الأَحِبَّةَ، إِلَّا أَنْ يُفَارِقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ، كُنْتِ أَحَبَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، وَلَمْ يَكُنْ يُحِبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا طَيِّبًا، وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ، فَنَزَلَتْ فِيكِ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ، فَلَيْسَ مَسْجِدٌ مِنْ مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا يُتْلَى فِيهِ عُذْرُكِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَقَالَتْ: دَعْنِي مِنْ تَزْكِيَتِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الوفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، وہ کہنے لگیں: مجھے اندیشہ ہے کہ یہ آ کر میری تعریفیں کریں گے، بہرحال! انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آکر کہا کہ آپ کے اور دیگر دوستوں کے درمیان ملاقات کا صرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہو جائے، آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب رہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گر پڑا تھا تو آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہو گئی تھیں، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں: اے ابن عباس! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، واللہ! میری تو خواہش ہے . . . (کہ میں برابر سرابر چھوٹ جاؤں)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1905]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 4753.
الحكم: إسناده قوي، خ: 4753.
حدیث نمبر: 1906 مسند احمد
سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، رَجُلٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ لَهَا:" إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي، وَإِنَّهُ لَاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ آپ کا نام ام المومنین رکھا گیا تاکہ آپ کی خوش نصیبی ثابت ہو جائے، اور یہ نام آپ کا آپ کی پیدائش سے پہلے ہی طے ہو چکا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1906]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، ليث بن أبي سليم ضعيف وشيخه مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف ، ليث بن أبي سليم ضعيف وشيخه مجهول.
حدیث نمبر: 1907 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" نَهَى أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الإِنَاءِ، أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1907]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1908 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَقُضِيَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ مَا ضَرَّهُ الشَّيْطَانُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ملاقات کے لئے آ کر یہ دعا پڑھ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1908]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 141، م: 1434 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 141، م: 1434 .
حدیث نمبر: 1909 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا بَيْنَ هَذَيْنِ اللَّوْحَيْنِ، وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: وَكَانَ الْمُخْتَارُ يَقُولُ: الْوَحْيُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور شداد بن معقل سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف وہی چیز چھوڑی ہے جو دو لوحوں کے درمیان ہے (یعنی قرآن کریم)، ہم محمد بن علی کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا، بہتر ہوتا کہ وہ وحی کا لفظ استعمال کرتے (تاکہ حدیث کو بھی شامل ہو جاتا)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1909]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5019.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5019.
حدیث نمبر: 1910 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: وَقَالَ مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْآنٌ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ سورة القيامة آية 16 - 18".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جب قرآن کریم کا نزول ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواہش ہوتی تھی کہ اسے ساتھ ساتھ یاد کرتے جائیں، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ o إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ o فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ [القيامة: 16-18] » آپ اپنی زبان کو مت حرکت دیں کہ آپ جلدی کریں، اسے جمع کرنا اور پڑھنا ہماری ذمہ داری ہے، جب ہم پڑھ چکیں تب آپ پڑھا کریں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1910]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5 .
حدیث نمبر: 1911 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، كُرَيْبٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ، فَكُنَّا نَقُولُ لِعَمْرٍو إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب فجر کی دو سنتیں پڑھ لیتے تو لیٹ جاتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خراٹے لینے لگتے، راوی کہتے ہیں کہ ہم عمرو سے کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1911]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 138، م: 763 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 138، م: 763 .
حدیث نمبر: 1912 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ:" فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقَامَ فَصَنَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَمَا صَنَعَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ فَصَلَّى، فَحَوَّلَهُ فَجَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ , فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، ہلکا سا وضو کر کے کھڑے ہوگئے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح کیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خراٹے لینے لگے، پھر جب مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور دوبارہ وضو نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1912]
حکم دارالسلام
راجع ما قبله.
الحكم: راجع ما قبله.
حدیث نمبر: 1913 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ:" إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ، حُفَاةً عُرَاةً، مُشَاةً غُرْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوران خطبہ یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم اللہ سے اس حال میں ملو گے کہ تم ننگے پاؤں، ننگے بدن، پیدل اور غیر مختون ہوگے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1913]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6524، م: 2860.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6524، م: 2860.
حدیث نمبر: 1914 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَسِّلُوهُ بِمَاءٍ، وَسِدْرٍ، وَادْفِنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُهِلًّا"، وَقَالَ مَرَّةً:" يُهِلُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھے، ایک آدمی حالت احرام میں اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1914]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206.
حدیث نمبر: 1915 مسند احمد
سُفْيَانُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1915]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1916 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60، قَالَ:" هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما آیت ذیل: « ﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ﴾ [الإسراء: 60] » اس خواب کو جو ہم نے آپ کو دکھایا، لوگوں کے لئے ایک آزمائش ہی تو بنایا ہے کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد آنکھوں کی وہ رؤیت ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شب معراج دکھائی گئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1916]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3888 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3888 .
حدیث نمبر: 1917 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، يَقُولُ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے، اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1917]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1841، م: 1178.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1841، م: 1178.