بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 57 از 86
حدیث نمبر: 2958 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مَجْلِسٍ لَهُمْ، فَقَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ، أَوْ يُقْتَلَ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ؟" قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ:" رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلًا؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ، وَلَا يُعْطِي بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فرمایا: وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو، اور اللہ کے راستہ میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہو جائے یا شہید ہو جائے۔ پھر فرمایا: اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فرمایا: وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو۔ کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے بدترین مقام کا حامل ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فرمایا: وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2958]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2959 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا،" فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَمِنْ الْأَقِطِ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا"، قَالَ: وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن ناپسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جا سکتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2959]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2575، م: 1947
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2575، م: 1947
حدیث نمبر: 2960 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا، فَلَبِسَهُ، ثُمَّ قَالَ:" شَغَلَنِي هَذَا عَنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمِ، إِلَيْهِ نَظْرَةٌ، وَإِلَيْكُمْ نَظْرَةٌ" ثُمّ رَمَى بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوا کر پہن لی، پھر فرمانے لگے کہ میرا آج کا دن تو اسی میں مصروف رہا، ایک نظر اسے دیکھتا تھا اور ایک نظر تمہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پھینک دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2961 مسند احمد
مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَن ، خَالِدٌ ، بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَن ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا، فَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ شَيْئًا، حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا اور اس کی قیمت کو کھانا شروع کر دیا، حالانکہ اللہ نے جب بھی کسی چیز کو کھانا حرام قرار دیا تو اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2961]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2962 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، زَكَرِيَّا ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال:" لا يُعْضَدُ عِضَاهُها، ولا يُنَفَّرُ صَيْدُها، ولا تَحِلُّ لُقَطَتُها إِلا لِمُنْشِدٍ، ولا يُخْتَلَى خَلاها" فقال العباسُ: يا رسولَ الله، إِلا الإِذْخِرَ، قال:" إِلا الإِذْخِرً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے) یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے، اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے مستثنی فرما دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2962]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1349، م: 1353
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1349، م: 1353
حدیث نمبر: 2963 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابنُ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرِبَ رَجُلٌ، فَسَكِرَ، فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي فَجٍّ، فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ عَبَّاسٍ نْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى عَبَّاسٍ، فَالْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، وَقَالَ:" قَدْ فَعَلَهَا؟!" ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهُمْ فِيهِ بِشَيْءٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شراب نوشی کی سزا جاری نہیں فرمائی، ہوا اس طرح کہ ایک آدمی شراب پی کر مدہوش ہو گیا، راستے میں وہ ادھر ادھر لڑھکتا چلا جا رہا تھا کہ ایک شخص اسے مل گیا اور اسے پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے جانے لگا، جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب ہوا تو وہ شخص اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر میں گھس کر پیچھے سے جا کر ان سے چمٹ گیا، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ واقعہ ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا کہ اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متلعق کوئی حکم نہیں دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2963]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن على بن يزيد ابن ركانة مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن على بن يزيد ابن ركانة مجهول
حدیث نمبر: 2964 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ:" فأَما لِلَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہوگئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ [البقرة: 143] » اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2964]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، رواية سماك بن حرب عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، رواية سماك بن حرب عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2965 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، إِدْرِيسَ بْنِ منبه ، أَبِيهِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ إِدْرِيسَ بْنِ منبه عَنْ أَبِيهِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ، فَقَالَ: ادْعُ رَبَّكَ. قَالَ: فَدَعَا رَبَّهُ، قَالَ: فَطَلَعَ عَلَيْهِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيَنْتَشِرُ، قَالَ: فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَعِقَ، فَأَتَاهُ فَنَعَشَهُ، وَمَسَحَ الْبُزَاقَ عَنْ شِدْقِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے اپنی اصلی صورت دکھانے کی فرمائش کی، انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کی تو اسی لمحے مشرق کی طرف سے ایک گھٹا اٹھی جو آہستہ آہستہ بلند ہونے اور پھیلنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بےہوش ہو کر گر پڑے، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر انہیں اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ سے نکلنے والے تھوک کو صاف کیا جو دونوں جبڑوں کی طرف سے نکل رہا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2965]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، إدريس بن منبه ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، إدريس بن منبه ضعيف
حدیث نمبر: 2966 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِأُنَاسٍ مِنَ الزُّطِّ يَعْبُدُونَ وَثَنًا، فَأَحْرَقَهُمْ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے پاس جاٹ قوم کے کچھ لوگوں کو لایا گیا جو بتوں کے پچاری بن گئے تھے، انہوں نے ان لوگوں کو نذر آتش کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2966]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3017
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3017
حدیث نمبر: 2967 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ ، قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ". قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ هَلْ يَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ؟ فَقَالَ: لَا، إِنَّمَا هَذَا فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ، وَأَشْبَاهِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔ راوی نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا کہ یہ حکم طلاق و عتاق میں بھی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، صرف بیع و شراء میں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2967]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1712
الحكم: إسناده صحيح، م: 1712
حدیث نمبر: 2968 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ". قَالَ عَمْرٌو: إِنَّمَا ذَاكَ فِي الْأَمْوَالِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2968]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2969 مسند احمد
الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ، وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ، لَكَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر مسلمان - جو صاحب استطاعت ہو - پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2969]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا سند ضعيف، وهو مكرر: 2663
الحكم: صحيح، وهذا سند ضعيف، وهو مكرر: 2663
حدیث نمبر: 2970 مسند احمد
الزُّبَيْرِيُّ ، وَأَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَأَسْوَدُ ، الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: ابْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِيرٍ أَقْبَلَتْ، فَرَبِحَ أَوَاقِيَّ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرَامِلِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ثُمَّ قَالَ:" لَا أَبْتَاعُ بَيْعًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کچھ اونٹ آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے کوئی اونٹ خرید لیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چند اوقیہ چاندی کا منافع ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ منافع بنو عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں پر تقسیم فرما دیا اور فرمایا کہ میں ایسی چیز نہیں خریدتا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2970]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف وانظر 2093
الحكم: إسناده ضعيف وانظر 2093
حدیث نمبر: 2971 مسند احمد
وَكِيعٌ
وحَدَّثَنَاه وَكِيعٌ أَيْضًا، فَأَسْنَدَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2971]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2972 مسند احمد
الزُّبَيْرِيُّ ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَسْلَمَتْ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَتْ، فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ إِسْلَامِي." فَنَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخِرِ، وَرَدَّهَا عَلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا، کچھ عرصے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی، اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے اسلام قبول کر لیا تھا (کسی مصلحت کی وجہ سے اسے مخفی رکھا تھا) اور میری بیوی کو اس کا علم تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اس کی بیوی قرار دے کر دوسرے شوہر سے پہلے شوہر کی طرف واپس لوٹا دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2972]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
الحكم: إسناده ضعيف، سماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2973 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو إِسْرَائِيلَ ، فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا عَنْ صَاحِبِهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ، فَلْيَتَعَجَّلْ، فَإِنَّهُ قَدْ تَضِلُّ الضَّالَّةُ، وَيَمْرَضُ الْمَرِيضُ، وَتَكُونُ الْحَاجَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کا حج کا ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کر لینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہو جاتی ہے، کبھی کوئی بیمار ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آ جاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2973]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى إسرائيل
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى إسرائيل
حدیث نمبر: 2974 مسند احمد
أَبُو الْوَلِيدِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ، فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ كَذَبَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے اور جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2974]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف عبدالأعلى
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف عبدالأعلى
حدیث نمبر: 2975 مسند احمد
أَبُو الْوَلِيدِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَطَاءٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدْ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَاسْأَلُوا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ، أَوْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ؟" وَاللَّهِ مَا مَسَحَ بَعْدَ الْمَائِدَةِ، وَلَأَنْ أَمْسَحَ عَلَى ظَهْرِ عَابِرٍ بِالْفَلَاةِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمْسَحَ عَلَيْهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے موزوں پر تو مسح کیا ہے لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول سے پہلے یا بعد میں مسح کیا تھا، اب ان سے پوچھ لو، واللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح نہیں کیا تھا، اور مجھے جنگل میں بھی موزوں پر مسح کرنے سے زیادہ یہ بات پسند ہے کہ کسی اونٹ کی پشت پر مسح کر لوں۔ فائدہ: یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ذاتی رائے ہے، ورنہ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2975]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عطاء بن سائب كان قد اختلط ، وأبو عوانة سمع من عطاء فى الصحة وفي الاختلاط جميعا
الحكم: إسناده ضعيف، عطاء بن سائب كان قد اختلط ، وأبو عوانة سمع من عطاء فى الصحة وفي الاختلاط جميعا
حدیث نمبر: 2976 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَرْدٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَرْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ يَا عُرَيَّةُ، سَلْ أُمَّكَ أَلَيْسَ قَدْ جَاءَ أَبُوكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحَلَّ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے فرمایا: اے عروہ! اپنی والدہ سے پوچھئے، کیا آپ کے والد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے کہ انہوں نے احرام باندھا تھا؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2976]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2977 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، سِمَاكٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَتْ لِلشَّيَاطِينِ مَقَاعِدُ فِي السَّمَاءِ، فَكَانُوا يَسْتَمِعُونَ الْوَحْيَ، وَكَانَتْ النُّجُومُ لَا تَجْرِي، وَكَانَتْ الشَّيَاطِينُ لَا تُرْمَى،، قَالَ: فَإِذَا سَمِعُوا الْوَحْيَ، نَزَلُوا إِلَى الْأَرْضِ، فَزَادُوا فِي الْكَلِمَةِ تِسْعًا،" فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَ الشَّيْطَانُ إِذَا قَعَدَ مَقْعَدَهُ، جَاءَهُ شِهَابٌ فَلَمْ يُخْطِهِ حَتَّى يُحْرِقَهُ، قَالَ: فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ، فَقَالَ: مَا هَذَا إِلَّا مِنْ حَدَثٍ حَدَثَ. قَالَ: فَبَثَّ جُنُودَهُ، قَالَ: فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ، قَالَ: فَرَجَعُوا إِلَى إِبْلِيسَ، فَأَخْبَرُوهُ، قَالَ: فَقَالَ: هُوَ الَّذِي حَدَثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ گزشتہ زمانے میں جنات آسمانی خبریں سن لیا کرتے تھے، وہ ایک بات سن کر اس میں دس اپنی طرف سے لگاتے اور کاہنوں کو پہنچا دیتے، (وہ ایک بات جو انہوں نے سنی ہوتی وہ ثابت ہو جاتی اور جو وہ اپنی طرف سے لگاتے تھے وہ غلط ثابت ہو جاتیں) اور اس سے پہلے ان پر ستارے بھی نہیں پھینکے جاتے تھے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنات میں جو بھی اپنے ٹھکانہ پر پہنچتا، اس پر شہاب ثاقب کی برسات شروع ہو جاتی اور وہ جل جاتا، انہوں نے ابلیس سے اس چیز کی شکایت کی، اس نے کہا: اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کوئی نئی بات ہو گئی ہے، چنانچہ اس نے اپنے لشکروں کو پھیلا دیا، ان میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے بھی گزرے جو جبل نخلہ کے درمیان نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے ابلیس کے پاس آ کر اسے یہ خبر سنائی، اس نے کہا کہ یہ ہے اصل وجہ، جو زمین میں پیدا ہوئی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2977]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن