بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 81 از 86
حدیث نمبر: 3438 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سَعِيدٌ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: دُعِينَا إِلَى طَعَامٍ، وَفِينَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ومِقْسَمٌ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ، قَالَ سَعِيدٌ : كُلُّكُمْ بَلَغَهُ مَا قِيلَ فِي الطَّعَامِ؟ قَالَ مِقْسَمٌ: حَدِّثْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَنْ لَمْ يَكُنْ يَسْمَعُ. فَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ، فَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهِ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ وَسَطَهُ، وَكُلُوا مِنْ حَافَتَيْهِ. أَوْ حَافَتَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے (اور سب طرف پھیلتی ہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3438]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 3439 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، طَاوُسًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، ابْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ شَهِدَ قَضَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَجَاءَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ، فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا،" فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ"، فَقُلْتُ لِعَمْرٍو: أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ: لَقَدْ شَكَّكْتَنِي. قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتَيَّ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پیٹ کے بچے کو مار دینے کے مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا، تو سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ آ گئے اور فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ میں دو عورتوں کے درمیان تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو بیلن یا خیمہ کا ستون دے مارا، جس کے صدمے سے وہ عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ دونوں مر گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا، اس کے بدلے میں ایک غلام مقتولہ کے ورثاء کو دے دیا جائے، اور اس عورت کے بدلے میں اس عورت کو قتل کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عمرو سے کہا کہ مجھے ابن طاؤس نے اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت دوسری طرح سنائی ہے؟ وہ کہنے لگے کہ تم نے مجھے شک میں ڈال دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3439]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3440 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ خِذَامًا أَبَا وَدِيعَةَ أَنْكَحَ ابْنَتَهُ رَجُلًا، فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَكَتْ إِلَيْهِ أَنَّهَا أُنْكِحَتْ وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَانْتَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا، وَقَالَ:" لَا تُكْرِهُوهُنَّ". قَالَ: فَنَكَحَتْ بَعْدَ ذَلِكَ أَبَا لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيَّ، وَكَانَتْ ثَيِّبًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوودیعہ - جن کا نام خذام تھا - نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک شخص سے کر دیا، ان کی بیٹی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور شکایت کی کہ اس کا نکاح فلاں شخص سے زبردستی کیا جا رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اس کے شوہر سے الگ کر دیا اور فرمایا کہ عورت کو مجبور نہ کیا کرو۔ پھر اس کے بعد اس لڑکی نے سیدنا ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی، یاد رہے کہ وہ شوہر دیدہ تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3440]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عطاء بن مسلم الخراساني صاحب أوهام كثيرة ثم هو لم يسمع من ابن عباس، وأصل القصة صحيح، أنظر صحيح البخاري : 5138
الحكم: إسناده ضعيف، عطاء بن مسلم الخراساني صاحب أوهام كثيرة ثم هو لم يسمع من ابن عباس، وأصل القصة صحيح، أنظر صحيح البخاري : 5138
حدیث نمبر: 3441 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ... نَحْوَهُ وَزَادَ: ثُمَّ جَاءَتْهُ بَعْدُ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنْ قَدْ مَسَّهَا، فَمَنَعَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ إِيمَانُهُ أَنْ يُحِلَّهَا لِرَفَاعَةَ، فَلَا يَتِمَّ لَهُ نِكَاحُهَا مَرَّةً أُخْرَى". ثُمَّ أَتَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي خِلَافَتِهِمَا، فَمَنَعَاهَا كِلَاهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی روایت میں دوسری سند کے ساتھ یہ اضافہ بھی مروی ہے کہ کچھ عرصے بعد وہ خاتون دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے نئے شوہر نے اسے چھو لیا ہے (لہذا وہ اب اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے)، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پہلے شوہر کے پاس جانے سے روک دیا (کیونکہ دوسرے شوہر کا ہمبستری کرنا شرط ہے، چھونا نہیں)، اور فرمایا: اے اللہ! اگر اس کی قسم اسے رفاعہ کے لئے حلال کرتی ہے تو اس کا نکاح دوسری مرتبہ مکمل نہ ہوگا، پھر وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ان دونوں کے دور خلافت میں بھی پہلے شوہر کے پاس واپس جانے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے آئی لیکن ان دونوں نے بھی اسے روک دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3441]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 3442 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، طَاوُسًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک شخص پر ہوا جو ایک دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹا اور فرمایا: اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے طواف کراؤ۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3442]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1621
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1621
حدیث نمبر: 3443 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، طَاوُسًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، بِإِنْسَانٍ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ إِلَى إِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطٍ، أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ:" قُدْهُ بِيَدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک شخص پر ہوا جو ایک دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹا اور فرمایا: اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے طواف کراؤ۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3443]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1620
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1620
حدیث نمبر: 3444 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ، فَقَالَ:" رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيلَ، فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر چند لوگوں پر ہوا جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسماعیل! تیر اندازی کیا کرو، کیونکہ تمہارے باپ حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی تیر انداز تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3444]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3445 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: وَلَقَدْ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آخِذًا رَأْسَهُ إِمَّا قَالَ: بِشِمَالِهِ، وَإِمَّا بِيَمِينِهِ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ، فِي قُبُلِ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، يَقُولُ يَا رَبِّ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا . . . . .، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ میں نے تمہاے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس نے اپنا سر دائیں یا بائیں ہاتھ سے پکڑ رکھا ہوگا اور اس کے زخموں سے خون رس رہا ہوگا، وہ کہتا ہوگا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا تھا؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3445]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3446 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ:" بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو ان کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3446]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإرساله، فإن إبراهيم النخعي من أتباع التابعين
الحكم: إسناده ضعيف لإرساله، فإن إبراهيم النخعي من أتباع التابعين
حدیث نمبر: 3447 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3447]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق، وأبو إسحاق مختلط
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق، وأبو إسحاق مختلط
حدیث نمبر: 3448 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا، وَلَا تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کو علم سکھاؤ، آسانیاں پیدا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو، اور تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کر لینا چاہئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3448]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 3449 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ أَوْ عَقَاره، قَالَ: وَعَفَارُ النَّخْلِ أَوْ عَقَارها: أَنَّهَا كَانَتْ تُؤَبَّرُ ثُمَّ تُعْفَرُ، أَوْ تُغْفَرُ، أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَارِ، قَالَ: فَوَجَدْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي، وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا، حَمْشًا، سَبْطَ الشَّعْرِ، وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ رَجُلٌ خَدْلٌ إِلَى السَّوَادِ، جَعْدٌ قَطَطٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ بَيِّنْ، اللَّهُمَّ بَيِّنْ" ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ يُشْبِهُ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! واللہ! درختوں کی پیوندکاری کے بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اپنی بیوی کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سیدھے تھے، اس عورت کو جس شخص کے ساتھ متہم کیا گیا تھا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگھریالے بالوں والا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر دعا فرمائی کہ اے اللہ! حقیقت حال کو واضح فرما، اور ان کے درمیان لعان کروا دیا، اور اس عورت کے یہاں اسی شخص کے مشابہہ بچہ پیدا ہوا جس کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3449]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3450 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَدَعَا بِمَاءٍ، فَجَعَل يَغْرِفُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى الْيُسْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وضو کرنے کا طریقہ نہ بتاؤں؟ یہ کہہ کر پانی منگوایا اور دائیں ہاتھ سے چلو بھر کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالنے لگے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3450]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3451 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ، قَالَ:" كُنْتُ قُمْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى شِمَالِهِ، فَأَدَارَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی اور بائیں جانب ان کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3451]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3452 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيْتَةٍ، فَقَالَ:" أَلَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟" قَالُوا: وَكَيْفَ وَهِيَ مَيْتَةٌ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا حُرِّمَ لَحْمُهَا". قَالَ مَعْمَرٌ: وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُنْكِرُ الدِّبَاغَ، وَيَقُولُ: يُسْتَمْتَعُ بِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھا لیا؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ مردہ ہے، فرمایا: اس کا صرف کھانا حرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہو سکتی ہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3452]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح خ: 1492، م: 363
الحكم: إسناده صحيح خ: 1492، م: 363
حدیث نمبر: 3453 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ:" تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ احْتَزَّ مِنْ كَتِفٍ فَأَكَلَ، ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا، پھر شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3453]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 207، م: 354
الحكم: إسناده صحيح، خ: 207، م: 354
حدیث نمبر: 3454 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ قَالَ: يَوْمَ الْفَتْحِ وَهُوَ يُصَلِّي، أَنَا وَالْفَضْلُ مُرْتَدِفَانِ عَلَى أَتَانٍ، فَقَطَعْنَا الصَّفَّ وَنَزَلْنَا عَنْهَا، ثُمَّ دَخَلْنَا الصَّفَّ، وَالْأَتَانُ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، لَمْ تَقْطَعْ صَلَاتَهُمْ". وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: كُنْتُ رَدِيفَ الْفَضْلِ عَلَى أَتَانٍ، فَجِئْنَا وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے موقع پر نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، ہم ایک صف کے آگے سے گزر کر اس سے اتر گئے، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گئے، لیکن انہوں نے اپنی نماز نہیں توڑی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3454]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 504
الحكم: إسناده صحيح، م: 504
حدیث نمبر: 3455 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى الصُّوَرَ فِي الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ لَمْ يَدْخُلْ، وَأَمَرَ بِهَا، فَمُحِيَتْ، وَرَأَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام بِأَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ، فَقَالَ:" قَاتَلَهُمْ اللَّهُ، وَاللَّهِ مَا اسْتَقْسَمَا بِالْأَزْلَامِ قَطُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بتوں کی موجودگی میں بیت اللہ کے اندر داخل ہونے سے احتراز فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر وہاں سے سب چیزیں نکال لی گئیں، ان میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی مورتیاں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں پانسے کے تیر تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی مار ہو ان پر، یہ جانتے بھی تھے کہ ان دونوں حضرات نے کبھی ان تیروں سے کسی چیز کو تقسیم نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3455]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3352
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3352
حدیث نمبر: 3456 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى، أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر، یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3456]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2021
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2021
حدیث نمبر: 3457 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ، وَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ"، قَالَ: وَأَمَرَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ بَعْضَ خَرَاجِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بنو بیاضہ کے ایک غلام نے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے عطا فرمائی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے، اور اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چنانچہ انہوں نے اس سے کچھ مقدار کو کم کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3457]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2103، م: 1202
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2103، م: 1202