بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 34 از 86
حدیث نمبر: 2498 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، هِشَامٍ ، قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو، اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:478
الحكم: إسناده صحيح، م:478
حدیث نمبر: 2499 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ" الدُّبَّاءِ , وَالْحَنْتَمِ , وَالْمُزَفَّتِ , وَالنَّقِيرِ، وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ وَالزَّهْوُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ دباء، حنتم، نقیر، مزفت اور کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2499]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1995
الحكم: إسناده صحيح، م: 1995
حدیث نمبر: 2500 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ الْفَتْحُ فِي ثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کا عظیم الشان واقعہ رمضان کی تیرہ تاریخ کو پیش آیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2500]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2501 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ، فَقَالُوا: إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: ك ف ر , قَالَ: مَا تَقُولُونَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: ك ف ر , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَلِكَ، وَلَكِنْ قَالَ:" أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، وَأَمَّا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ، عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر «ك ف ر» لکھا ہوگا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان «ك ف ر» لکھا ہوگا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ تو نہیں سنا البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے پیغمبر کو (مجھے) دیکھ لو، رہے حضرت موسیٰ علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے آدمی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سرخ اونت پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی ہے اور گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2501]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1555، م: 166
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1555، م: 166
حدیث نمبر: 2502 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: ذَكَرُوهُ يَعْنِي الدَّجَّالَ، فَقَالَ: مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: ك ف ر , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ ذَاكَ، وَلَكِنْ قَالَ:" أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، قَالَ يَزِيدُ: يَعْنِي نَفْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، , وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ طُوَالٌ، عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَقَدْ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي" , قَالَ أَبِي: قَالَ هُشَيْمٌ: الْخُلْبَةُ: اللِّيفُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر «ك ف ر» لکھا ہو گا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان «ك ف ر» لکھا ہو گا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ تو نہیں سنا البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے پیغمبر کو (مجھے) دیکھ لو، رہے حضرت موسیٰ علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے آدمی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی ہے، اور گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2502]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، راجع ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 2503 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ , قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: أَظُنُّهُ قَدْ رَفَعَهُ، قَالَ: أَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ أَنْ" صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ جب کہ بہت بارش ہو رہی تھی، منادی کو حکم دیا، چنانچہ اس نے یہ اعلان کر دیا کہ اپنی اپنی جگہوں پر نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2503]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 616، م: 699
الحكم: إسناده صحيح، خ: 616، م: 699
حدیث نمبر: 2504 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ مَاتَتْ شَاةٌ فِي بَعْضِ بُيُوتِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِمَسْكِهَا؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2504]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1492، م: 363
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1492، م: 363
حدیث نمبر: 2505 مسند احمد
ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ ، وَهْبِ بْنِ مِينَاسٍ الْعَدَنِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مِينَاسٍ الْعَدَنِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ السُّجُودَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے اور جب سجدے میں جانے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو، اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2505]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهب بن ميناس، مستور، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهب بن ميناس، مستور، وقد توبع
حدیث نمبر: 2506 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَاسْتُنْبِئَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وخَرَجَ مُهاجراً من مكة إِلى المدينة يومَ الاثنينِ، وقَدِمَ المدينةَ يومَ الاثنينِ، َتُوُفِّيَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش پیر کے دن ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبوت پیر کے دن ملی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت بھی پیر کے دن فرمائی، مدینہ منورہ تشریف آوری پیر کے دن ہوئی، وفات پیر کے دن ہوئی، اور حجر اسود کو اٹھا کر اس کی جگہ پر بھی پیر کے دن ہی رکھا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2506]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف عبدالله بن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف عبدالله بن لهيعة
حدیث نمبر: 2507 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ وَاقِفًا، وَقَدْ أَرْدَفَ الْفَضْلَ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَوَقَفَ قَرِيبًا وَأَمَةٌ خَلْفَهُ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَفَطِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَلَا الْإِبِلِ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ" , قَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا، قَالَ: فَلَمَّا وَقَفَ بِجَمْعٍ أَرْدَفَ أُسَامَةَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ" , قَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ، فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً، حَتَّى أَتَتْ مِنًى، فَأَتَانَا بسَوَادَ ضَعْفَى بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حُمُرَاتٍ لَهُمْ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ أَفْخَاذَنَا، وَيَقُولُ:" يَا بَنِيَّ، أَفِيضُوا، وَلَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میدان عرفات میں کھڑے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو سوار کر رکھا تھا، ایک دیہاتی آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب کھڑا ہو گیا، اس کے پیچھے اس کی بیٹی بیٹھی ہوئی تھی، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ اسے دیکھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھ گئے اور ان کا چہرہ موڑنے لگے، پھر فرمایا: لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے تم سکون کو اپنے اوپر لازم کر لو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو اپنے ہاتھ اٹھائے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مزدلفہ پہنچ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا تو اپنے پیچھے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا، پھر فرمایا: لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے سکون سے چلو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ منیٰ آ پہنچے۔ مزدلفہ ہی میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو ہاشم کے ہم کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کی جماعت کے پاس آئے جو اپنے گدھوں پر سوار تھے اور ہماری رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمانے لگے: پیارے بچو! تم روانہ ہو جاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2507]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2508 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرًا ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ وَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَصُورَةَ مَرْيَمَ، فَقَالَ:" أَمَّا هُمْ، فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرًا، فَمَا بَالُهُ يَسْتَقْسِمُ؟!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے تو وہاں حضرت ابراہیم اور حضرت مریم علیہما السلام کی تصویریں دیکھیں، انہیں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سن چکے تھے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو (پھر بھی انہوں نے یہ تصویریں بنا رکھی ہیں)، یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تصویر ہے، ان کا کیا حال بنا رکھا ہے کہ یہ پانسے کے تیر پکڑے ہوئے ہیں؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2508]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3351
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3351
حدیث نمبر: 2509 مسند احمد
هَارُونُ ، هَارُونَ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، كُرَيْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أخبرني أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ، أَوْ بِعُسْفَانَ، فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ، انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ , قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَإِذَا نَاسٌ قَدْ اجْتَمَعُوا لَهُ، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: يَقُولُ: هُمْ أَرْبَعُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: أَخْرِجُوهُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيَقُومُ عَلَى جِنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا شَفَّعَهُمْ اللَّهُ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک بیٹا مقام قدید یا عسفان میں فوت ہو گیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا: کریب! دیکھ کر آؤ کتنے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں؟ میں نے باہر نکل کر دیکھا تو کچھ لوگ جمع ہو چکے تھے، میں نے انہیں آ کر بتا دیا، انہوں نے پوچھا کہ ان کی تعداد چالیس ہوگی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: پھر جنازے کو باہر نکالو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے جنازے میں چالیس ایسے افراد شریک ہو جائیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تو اللہ ان کی سفارش مردے کے حق میں ضرور قبول فرما لیتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2509]
حکم دارالسلام
إسناده جيد، م: 948
الحكم: إسناده جيد، م: 948
حدیث نمبر: 2510 مسند احمد
عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فَتَبِعَهُ رَجُلَانِ، وَرَجُلٌ يَتْلُوهُمَا، يَقُولُ ارْجِعَا، قَالَ: فَرَجَعَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ، وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا، فَإِذَا أَتَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ، وَأَعْلِمْهُ أَنَّا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا، وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ، لَأَرْسَلْنَا بِهَا إِلَيْهِ , قَالَ: فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ عَنِ الْخَلْوَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفر پر روانہ ہوا تو اس کے پیچھے دو آدمی لگ گئے، ان دو آدمیوں کے پیچھے بھی ایک آدمی تھا جو انہیں واپس لوٹ جانے کے لئے کہہ رہا تھا، وہ ان سے مسلسل کہتا رہا حتی کہ وہ دونوں واپس چلے گئے، اس نے مسافر سے کہا کہ یہ دونوں شیطان تھے، میں مستقل ان کے پیچھے لگا رہا تاآنکہ میں انہیں واپس بھیجنے میں کامیاب ہو گیا، جب آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچیں تو انہیں میرا سلام پہنچا دیں اور یہ پیغام دے دیں کہ ہمارے پاس کچھ صدقات اکٹھے ہوئے ہیں، اگر وہ ان کے لئے مناسب ہوں تو وہ ہم آپ کی خدمت میں بھجوا دیں، اس کے بعد سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تنہا سفر کرنے سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2510]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2511 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، الْمَسْعُودِيِّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، قَالَ:" مَا أَدْرَكْنَا أَحَدًا أَقْوَمَ بِقَوْلِ الشِّيعَةِ مِنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسعودی کا کہنا ہے کہ میں نے عدی بن ثابت سے زیادہ اہل تشیع کے بارے کسی کی بات عمدہ نہیں دیکھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2511]
حکم دارالسلام
وهذا أثر عن المسعودي وهو : عبدالرحمن بن عبدالله بن عتبة، عدي بن ثابت ثقة، غالي فى التشيع
الحكم: وهذا أثر عن المسعودي وهو : عبدالرحمن بن عبدالله بن عتبة، عدي بن ثابت ثقة، غالي فى التشيع
حدیث نمبر: 2512 مسند احمد
عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ" , قَالَ:" فَإِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ , فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کتے کی قیمت استعمال کرنا حرام ہے، اگر تمہارے پاس کوئی شخص کتے کی قیمت مانگنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2512]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2513 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَسَّانَ ، أَبَا الْعَبَّاسِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَلْهُجَيْمٍ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، مَا هَذِهِ الْفُتْيَا الَّتِي قد تَفَشَّغَتْ بِالنَّاسِ، أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ؟ فَقَالَ:" سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گزرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2513]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1244
الحكم: إسناده صحيح، م: 1244
حدیث نمبر: 2514 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَهْرٌ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ:" سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ، وَلَكِنْ اجْعَلُوا لِي ذِمَّةَ اللَّهِ، وَمَا أَخَذَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى بَنِيهِ، لَئِنْ حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا فَعَرَفْتُمُوهُ، لَتُتَابِعُنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ" , قَالُوا: فَذَلِكَ لَكَ , قَالَ:" فَسَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ" , قَالُوا: أَخْبِرْنَا عَنْ أَرْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ: أَخْبِرْنَا أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ؟ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ مَاءُ الْمَرْأَةِ، وَمَاءُ الرَّجُلِ؟ كَيْفَ يَكُونُ الذَّكَرُ مِنْهُ؟ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ هَذَا النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فِي النَّوْمِ؟ وَمَنْ وَلِيُّهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ؟ قَالَ:" فَعَلَيْكُمْ عَهْدُ اللَّهِ وَمِيثَاقُهُ لَئِنْ أَنَا أَخْبَرْتُكُمْ لَتُتَابِعُنِّي؟" , قَالَ: فَأَعْطَوْهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ , قَالَ:" فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السلاَّمَ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَام، مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا، وَطَالَ سَقَمُهُ، فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ سَقَمِهِ، لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ، وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ، وَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ، وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا؟" , قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ , قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ، فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ أَبْيَضُ غَلِيظٌ، وَأَنَّ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ، فَأَيُّهُمَا عَلَا كَانَ لَهُ الْوَلَدُ وَالشَّبَهُ بِإِذْنِ اللَّهِ، إِنْ عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ عَلَى مَاءِ الْمَرْأَةِ كَانَ ذَكَرًا بِإِذْنِ اللَّهِ، وَإِنْ عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ عَلَى مَاءِ الرَّجُلِ كَانَ أُنْثَى بِإِذْنِ اللَّهِ؟" , قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ , قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ، فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ؟" , قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ , قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ" , قَالُوا: وَأَنْتَ الْآنَ فَحَدِّثْنَا، مَنْ وَلِيُّكَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ؟ فَعِنْدَهَا نُجَامِعُكَ أَوْ نُفَارِقُكَ , قَالَ:" فَإِنَّ وَلِيِّيَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، وَلَمْ يَبْعَثْ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ وَلِيُّهُ" , قَالُوا: فَعِنْدَهَا نُفَارِقُكَ، لَوْ كَانَ وَلِيُّكَ سِوَاهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَتَابَعْنَاكَ وَصَدَّقْنَاكَ , قَالَ:" فَمَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ أَنْ تُصَدِّقُوهُ؟" , قَالُوا: إِنَّهُ عَدُوُّنَا , قَالَ:" فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ سورة البقرة آية 97 - 101 فَعِنْدَ ذَلِكَ بَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ سورة البقرة آية 90.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم آپ سے چند سوالات پوچھنا چاہتے ہیں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، آپ ہمیں ان کا جواب دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم جو چاہو مجھ سے سوال پوچھو، لیکن مجھ سے اللہ کے نام پر اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے اس وعدے کے مطابق جو انہوں نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا، وعدہ کرو کہ میں تمہیں جو جواب دوں گا اگر تم نے اسے صحیح سمجھا تو تم اسلام پر مجھ سے بیعت کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب پوچھو، کیا پوچھنا چاہتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے چار چیزوں کے متعلق سوال کرتے ہیں، ایک تو آپ ہمیں یہ بتائیے کہ وہ کون سا کھانا تھا جو حضرت یعقوب علیہ السلام نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا؟ دوسرا یہ بتائیے کہ عورت اور مرد کا پانی کیسا ہوتا ہے اور بچہ نر کیسے ہوتا ہے؟ تیسرا یہ بتائیے اس نبی امی کی نیند میں کیا کیفیت ہوتی ہے؟ اور چوتھا یہ کہ ان کے پاس وحی لانے والا فرشتہ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھ سے اللہ کو سامنے رکھ کر وعدہ کرتے ہو کہ اگر میں نے تمہیں ان سوالوں کے جواب دے دیئے تو تم میری اتباع کرو گے؟ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑے مضبوط عہد و پیمان کر لیے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات کو نازل کیا، کیا تم جانتے ہو کہ ایک مرتبہ حضرت یعقوب علیہ السلام بہت سخت بیمار ہوگئے تھے، ان کی بیماری نے طول پکڑا تو انہوں نے اللہ کے نام پر یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی اس بیماری سے شفا عطا فرما دی تو وہ اپنا سب سے مرغوب مشروب اور سب سے مرغوب کھانا اپنے اوپر حرام کر لیں گے، اور انہیں کھانوں میں اونٹ کا گوشت اور مشروبات میں اونٹنی کا دودھ سب سے زیادہ مرغوب تھا؟ انہوں نے اس کی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ۔ پھر فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اسی نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ مرد کا پانی سفید گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد پتلا ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس کا پانی غالب آ جائے، اللہ کے حکم سے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے، چنانچہ اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے وہ لڑکا ہوتا ہے، اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے؟ انہوں نے اس کی بھی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ۔ پھر فرمایا: میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ اس نبی امی کی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن دل نہیں سوتا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ۔ وہ یہودی کہنے لگے کہ اب آپ یہ بتائیے کہ کون سا فرشتہ آپ کا دوست ہے؟ اس پر ہم آپ سے مل جائیں گے یا جدا ہوجائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے دوست جبرئیل امین ہیں اور اللہ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا ہے وہی اس کے دوست رہے ہیں۔ یہ سن کر وہ یہودی کہنے لگے کہ اب ہم آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتے، اگر ان کے علاوہ کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی اتباع ضرور کرتے اور آپ کی تصدیق کرتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جبرئیل امین کی موجودگی میں تمہیں اس تصدیق سے کیا چیز روکتی ہے؟ وہ کہنے لگے کہ وہ ہمارا دشمن ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ . . . . . كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [البقرة: 97-101] » کہہ دیجئے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو . . . . . جیسے وہ نہیں جانتے۔ اور اس وقت وہ اللہ کے غضب پر غضب کو لے کر لوٹے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2514]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالحميد بن بهرام تكلم فى روايته عن شهر، وشهر بن حوشب ضعيف
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالحميد بن بهرام تكلم فى روايته عن شهر، وشهر بن حوشب ضعيف
حدیث نمبر: 2515 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، شَهْرٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2515]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2516 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، رَجُلٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا بِعَرَفَةَ، وَحَدَّثَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2516]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة الواسطة بين أيوب وبين سعيد بن جبير
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة الواسطة بين أيوب وبين سعيد بن جبير
حدیث نمبر: 2517 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ , قَالَ: بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2517]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح