بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 64 از 86
حدیث نمبر: 3098 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ ، سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي، دَخَلَ الْجَنَّةَ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بِأَبِي، فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ؟ فَقَالَ:" وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ"، قَالَتْ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي، لَمْ يُصَابُوا بِمِثْلِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے جو شخص اپنے دو کم سن بچے ذخیرے کے طور پر آگے بھیج چکا ہوگا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میرے والد آپ پر قربان ہوں، یہ بتائیے کہ اگر کسی کا ایک بچہ فوت ہو تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: اے توفیق دی ہوئی عورت! اس کا بھی یہی حکم ہے، انہوں نے پھر پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کی امت میں سے اگر کسی کا کوئی ذخیرہ ہی نہ ہو تو؟ فرمایا: پھر میں اپنی امت کا ذخیرہ ہوں گا اور انہیں مجھ جیسا کوئی نہیں ملے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3098]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3099 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى ، أَبُو سَلَّامٍ ، الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَ أَبُو سَلَّامٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ:" لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيُكْتَبُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے: لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3099]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3100 مسند احمد
هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3100]
حکم دارالسلام
حديث صحيح كسابقه
الحكم: حديث صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 3101 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عِكْرِمَةَ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَجُلًا يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ، وَإِذَا خَفَضَ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ ؟ فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہوا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، وہ سر اٹھاتے ہوئے، جھکاتے ہوئے اور دو رکعتوں سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہتا تھا، میں نے عجیب سمجھ کر یہ واقعہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3101]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3102 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: وَضَعَ لَكَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ. فَقَالَ:" اللَّهُمَّ فَقِّهُّ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، میں نے رات کے وقت ان کے لئے وضو کا پانی رکھا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ پانی آپ کے لئے عبداللہ بن عباس نے رکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3102]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 143، م: 2477، بدون لفظ : وعلمه التأويل
الحكم: إسناده صحيح، خ: 143، م: 2477، بدون لفظ : وعلمه التأويل
حدیث نمبر: 3103 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَفَّانُ ، ابْنُ سَلَمَةَ ، عَلَيُّ بْنُ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ . قَالَ أَبِي: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلَيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتْ: امْرَأَتُهُ هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ مَظْعُونٍ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةَ غَضَبٍ، فَقَالَ لَهَا:" مَا يُدْرِيكِ؟! فَوَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ، وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي قَالَ عَفَّانُ: وَلَا بِهِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ! فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ ذَلِكَ لِعُثْمَانَ، وَكَانَ مِنْ خِيَارِهِمْ، حَتَّى مَاتَتْ رُقَيَّةُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" الْحَقِي بِسَلَفِنَا الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ" قَالَ: وَبَكَتْ النِّسَاءُ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ:" دَعْهُنَّ يَبْكِينَ، وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْمَا يَكُنْ مِنَ الْقَلْبِ وَالْعَيْنِ، فَمِنْ اللَّهِ وَالرَّحْمَةِ، وَمَهْمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَاللِّسَانِ، فَمِنْ الشَّيْطَانِ". وَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، وَفَاطِمَةُ إِلَى جَنْبِهِ تَبْكِي، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَيْنَ فَاطِمَةَ بِثَوْبِهِ، رَحْمَةً لَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ایک خاتون کہنے لگی کہ عثمان! تمہیں جنت مبارک ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس خاتون کی طرف غصے بھری نگاہوں سے دیکھا اور فرمایا: تمہیں کیسے پتہ چلا؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ آپ کے شہسوار اور ساتھی تھے (اس لئے مرنے کے بعد جنت ہی میں جائیں گے)، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: واللہ! مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا، یہ سن کر لوگ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے ڈر گئے لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے آگے جانے والے بہترین ساتھی عثمان بن مظعون سے جا ملو (جس سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہوگیا)۔ اس پر عورتیں رونے لگیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں کوڑوں سے مارنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: عمر! رک جاؤ، پھر خواتین سے فرمایا کہ تمہیں رونے کی اجازت ہے لیکن شیطان کی چیخ و پکار سے اپنے آپ کو بچاؤ، پھر فرمایا کہ جب تک یہ آنکھ اور دل کا معاملہ رہے تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور باعث رحمت ہوتا ہے، اور جب ہاتھ اور زبان تک نوبت پہنچ جائے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے پہلو میں روتی رہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شفقت سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی آنکھیں اپنے کپڑے سے پونچھنے لگے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3103]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 3104 مسند احمد
بَكْرُ بْنُ عِيسَى أَبُو بِشْرٍ الرَّاسِبِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي حَمْزَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى أَبُو بِشْرٍ الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كُنْتُ غُلَامًا أَسْعَى مَعَ الْغِلْمَانِ، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا أَنَا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفِي مُقْبِلًا، فَقُلْتُ: مَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِلَيَّ، قَالَ: فَسَعَيْتُ حَتَّى أَخْتَبِئَ وَرَاءَ بَابِ دَارٍ، قَالَ: فَلَمْ أَشْعُرْ حَتَّى تَنَاوَلَنِي، فَأَخَذَ بِقَفَايَ، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ" قَالَ: وَكَانَ كَاتِبَهُ، فَسَعَيْتُ فَأَتَيْتُ مُعَاوِيَةَ، فَقُلْتُ: أَجِبْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ عَلَى حَاجَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گزر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے گدی سے پکڑ کر پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس انہیں بلانے کے لئے بھیج دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاتب تھے، میں دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلیے، انہیں آپ سے ایک کام ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3104]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3105 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، دَاوُدَ ، إِبْرَاهِيمُ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ . وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ، ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ بِلَالٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى النِّسَاءِ، فَخَطَبَهُنَّ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَ مَا قَفَّا مِنْ عِنْدِهِنَّ أَنْ يَأْتِيَهُنَّ، فَيَأْمُرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے بغیر اذان کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور واپس جاتے ہوئے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان عورتوں کے پاس جا کر انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3105]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو مكرر : 2169
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر : 2169
حدیث نمبر: 3106 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ، قَالَ: وَكَانَتْ حُبْلَى، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ عَفَرْنَا. قال: وَالْعَفْرُ: أَنْ يُسْقَى النَّخْلُ بَعْدَ أَنْ يُتْرَكَ مِنَ السَّقْيِ، بَعْدَ الْإِبَارِ بِشَهْرَيْنِ، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا حَمْشَ السَّاقَيْنِ وَالذِّرَاعَيْنِ، أَصْهَبَ الشَّعَرَةِ، وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ، قَالَ: فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ أَجْلَى جَعْدًا عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَهِيَ الْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا"؟ قَالَ: لَا، تِلْكَ امْرَأَةٌ كانت قَدْ أَعْلَنَتْ فِي الْإِسْلَامِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا، اس وقت اس کی بیوی امید سے تھی، عجلانی نے کہا کہ واللہ! درختوں کی پیوند کاری کے دو ماہ بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اس کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سفید مائل بہ سرخی تھے، اس عورت کو شریک بن سحماء کے ساتھ متہم کیا گیا تھا، اور اس کے یہاں جو بچہ پیدا ہوا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگریالے بالوں والا تھا اور اس کے بازو بھرے ہوئے تھے، ابن شداد نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں گواہوں کے بغیر کسی پر حد رجم جاری کرتا، تو اس عورت پر کرتا؟ فرمایا: نہیں، وہ تو وہ عورت تھی جن نے زمانہ اسلام میں لعان کیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3107 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. وَقَالَ: فِيهِ عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ، خَدْلَ السَّاقَيْنِ، وَقَالَ: الْهَاشِمِيُّ خَدْلٌ، وَقَالَ: بَعْدَ الْإِبَارِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3107]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3108 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَرٍو ، فُلَيْحٌ ، الزُّهْرِيُّ ، عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَرٍو ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عُضْوًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3108]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3109 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ. قَالَ: وَفِي حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ بَنَى بِهَا بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ: سَرِفُ، فَلَمَّا قَضَى نُسُكَهُ أَعْرَسَ بِهَا بِذَلِكَ الْمَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں سرف نامی جگہ میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ہے، اور حج سے فراغت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اسی مقام پر پہنچ کر ان کے ساتھ شب باشی فرمائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3109]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3110 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، الشَّيْبَانِيُّ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا، وَعَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا، قَالَ: وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشٍ أَنْ لَا يَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ وہ کچی اور پکی کھجور، یا کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں، اور اس نوعیت کا ایک خط اہل جرش کی طرف بھی لکھا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3110]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1990
الحكم: إسناده صحيح، م: 1990
حدیث نمبر: 3111 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ وَفِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا". فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ، وَعِنْدَنَا الْقُرْآنُ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ، فَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَفِيهِمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا". قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّ الرَّزِيَّةَ، كُلَّ الرَّزِيَّةِ، مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ، مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکوگے، اس وقت گھر میں کافی سارے لوگ تھے، جن میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر شدت تکلیف کا غلبہ ہے، اور تمہارے پاس قرآن کریم تو موجود ہے ہی، اور کتاب اللہ ہمارے لئے کافی ہے، اس پر لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہو گیا، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لکھنے کا سامان پیش کر دو تاکہ وہ تمہیں کچھ لکھوا دیں، اور بعض کی رائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی تھی، جب شور و شغب اور اختلاف زیادہ ہونے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ ہائے افسوس! لوگوں کے اختلاف اور شور و شغب کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس تحریر میں رکاوٹ پیدا ہو گئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3111]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4432، م: 1637
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4432، م: 1637
حدیث نمبر: 3112 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدَ يَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، يَوْمَ نَجَّى اللَّهُ مُوسَى، وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي أَوْلَى بِمُوسَى، وَأَحَقُّ بِصِيَامِهِ" فَصَامَهُ، وَأَمَر بِصِيَامِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطا فرمائی تھی، جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری نسبت موسیٰ کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3112]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2004، م: 1130
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2004، م: 1130
حدیث نمبر: 3113 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كُلَّ عُضْوٍ مِنْهُ غَسْلَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3113]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 157
حدیث نمبر: 3114 مسند احمد
محمدُ بن بكر ، ابنُ جريج ، عمرُ بنُ عطاءٍ ، عِكْرمة ، ابنِ عباسٍ
(حديث مرفوع) حدثنا محمدُ بن بكر ، أخبرنا ابنُ جريج ، قال: أَخبرني عمرُ بنُ عطاءٍ ، عن عِكْرمة ، عن ابنِ عباسٍ ، عنِ النبيِّ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسلَّمَ، أَنَّه كان يقولُ:" لا صَرُوَرةَ في الإسْلامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اسلام میں گوشہ نشینی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3114]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 3115 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَبَا الشَّعْثَاءِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، يَقُولُ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا، وَوَجَدَ سَرَاوِيلَ، فَلْيَلْبَسْهَا، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ، وَوَجَدَ خُفَّيْنِ، فَلْيَلْبَسْهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے، اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3115]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1843، م: 1178
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1843، م: 1178
حدیث نمبر: 3116 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَحَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَبَا الشَّعْثَاءِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَحَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1837 ، م: 1410
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1837 ، م: 1410
حدیث نمبر: 3117 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، طَاوُسًا ، وَعِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يُخْبِرَانِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يا رسولَ الله، إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي كَيْفَ أُهِلُّ؟ قَالَ:" أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي". قَالَ: فَأَدْرَكَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں، آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم احرام باندھتے وقت شرط لگا لو کہ میں وہیں حلال ہو جاؤں گی جہاں اے اللہ! آپ نے مجھے روک دیا۔ چنانچہ انہوں نے حج پا لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3117]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1208
الحكم: إسناده صحيح، م: 1208