بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 14 از 86
حدیث نمبر: 2098 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَاجْعَلُوهُ سَبْعَ أَذْرُعٍ، وَمَنْ بَنَى بِنَاءً، فَلْيَدْعَمْهُ حَائِطَ جَارِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب راستے (کی پیمائش) میں تمہارا اختلاف رائے ہو جائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو، اور جو شخص کوئی عمارت بنائے اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2098]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة.
حدیث نمبر: 2099 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيِّ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، تَسَارَعَ قَوْمٌ، فَقَالَ: أو فنودوا:" لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَلَا الرِّكَابِ" , قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَافِعَةً يَدَهَا تَعْدُو، حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو لوگوں کا ایک گروہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سکون سے چلو، گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2099]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 2100 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2100]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، سماك مضطرب فى روايته عن عكرمة.
الحكم: صحيح لغيره، سماك مضطرب فى روايته عن عكرمة.
حدیث نمبر: 2101 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ،" فَاغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ تَوَضَّأَ مِنْ فَضْلِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2101]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، سماك مضطرب فى روايته عن عكرمة.
الحكم: صحيح لغيره، سماك مضطرب فى روايته عن عكرمة.
حدیث نمبر: 2102 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَضْلِهِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا، ان زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2102]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، رواية سماك عن عكرمة مضطربة.
الحكم: صحيح لغيره، رواية سماك عن عكرمة مضطربة.
حدیث نمبر: 2103 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عِمْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، أَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: قَدْ بَرَّتْ يَمِينُكَ، وَقَدْ تَمَّ الشَّهْرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو ایک ماہ تک چھوڑے رکھا، جب 29 دن گزر گئے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کی قسم پوری ہو گئی اور مہینہ بھی مکمل ہو گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2103]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2104 مسند احمد
وَكِيعٌ ، فِطْرٍ ، ومُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، فِطْرٌ ، شُرَحْبِيلَ أَبِي سَعْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ فِطْرٍ ، ومُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: ثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ أَبِي سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أُخْتَانِ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُمَا مَا صَحِبَتَاهُ، دَخَلَ بِهِمَا الْجَنَّةَ" , وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ:" تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی دو بہنیں ہوں اور وہ جب تک اس کے پاس رہیں، ان سے اچھا سلوک کرتا رہے تو وہ ان دونوں کی برکت سے جنت میں داخل ہو جائے گا، بعض طرق میں دو بیٹیوں کا تذکرہ ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2104]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، لضعف شرحبيل بن سعد.
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، لضعف شرحبيل بن سعد.
حدیث نمبر: 2105 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا قَطُّ إِلَّا دَعَاهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی قوم سے اس وقت تک قتال شروع نہیں کیا جب تک انہیں دعوت نہ دے لی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2105]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2106 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَرَوْحٌ قَالَ: ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَئِنْ عِشْت، قَالَ رَوْحٌ: لَئِنْ سَلِمْتُ إِلَى قَابِلٍ , لَأَصُومَنَّ اليوم التَّاسِعَ" , يَعْنِي عَاشُورَاءَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2106]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 2107 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، قَال: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللَّه؟ قَالَ:" الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ دین کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو سب سے یکسو ہو کر ایک اللہ کے لئے ہو اور کشادہ وسیع ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2107]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، ابن إسحاق مدلس وقد عنعن و داود بن حصين ثقة لكن له غرائب تستنكر.
الحكم: صحيح لغيره، ابن إسحاق مدلس وقد عنعن و داود بن حصين ثقة لكن له غرائب تستنكر.
حدیث نمبر: 2108 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ احْتِجَامَةً فِي رَأْسِهِ" , قَالَ يَزِيدُ: مِنْ أَذًى كَانَ بِه.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2108]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5700 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5700 .
حدیث نمبر: 2109 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِير، أَخَذَهَا رِزْقًا لِعِيَالِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض - جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کے کھانے کے لئے لیے تھے - رہن رکھی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2109]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2110 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، قَالَ: فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث بنا کر جب نزول وحی کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر 40 برس تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بعد 13 برس مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور 63 برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2110]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2111 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجُ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُعْتِقُ مَنْ جَاءَهُ مِنَ الْعَبِيدِ قَبْلَ مَوَالِيهِمْ إِذَا أَسْلَمُوا , وَقَدْ أَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ رَجُلَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیتے تھے جو مسلمان ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ جاتے تھے، چنانچہ غزوہ طائف کے موقع پر بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو آدمیوں کو آزاد کر دیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2111]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن والحكم أبن عتيبة لم يسمعه من مقسم.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن والحكم أبن عتيبة لم يسمعه من مقسم.
حدیث نمبر: 2112 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ ، ويعلي ، سفيان ، مَنْصُورٍ ، الْمِنْهَالِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، ويعلي , حدثنا سفيان , عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ حَسَنًا , وَحُسَيْنًا، يَقُولُ:" أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ" , وَكَانَ يَقُولُ:" كَانَ إِبْرَاهِيمُ أَبِي يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ , وَإِسْحَاقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے: «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» میں تم دونوں کو اللہ کی صفات کاملہ کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور ہر غم سے اور ہر قسم کی نظر بد سے، اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے والد یعنی سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے دونوں بیٹوں سیدنا اسماعیل اور سیدنا اسحاق علیہما السلام پر یہی کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2112]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3371.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3371.
حدیث نمبر: 2113 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَى رَجُلٌ رُؤْيَا، فَجَاءَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَال: إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ ظُلَّةً تَنْطِفُ عَسَلًا وَسَمْنًا، فَكاَنَّ النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهَا، فَبَيْنَ مُسْتَكْثِرٍ , وَبَيْنَ مُسْتَقِلٍّ , وَبَيْنَ ذَلِكَ، وَكَأَنَّ سَبَبًا مُتَّصِلًا إِلَى السَّمَاءِ، وقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً: وَكَأَنَّ سَبَبًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ , فَجِئْتَ، فَأَخَذْتَ بِهِ، فَعَلَوْتَ فأَعَلَّاكَ اللَّهُ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ، فَأَخَذَ بِهِ فَعَلَا، فأَعَلَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكُمَا، فَأَخَذَ بِهِ فَعَلَا، فَأَعْلَاهُ اللَّهُ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكُم، فَأَخَذَ بِهِ فَقُطِعَ بِهِ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا، فَأَعْلَاهُ اللَّهُ , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّه، فَأَعْبُرُهَا , فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ: فَالْإِسْلَامُ، وَأَمَّا الْعَسَلُ وَالسَّمْنُ: فَحَلَاوَةُ الْقُرْآنِ , فَبَيْنَ مُسْتَكْثِرٍ، وَبَيْنَ مُسْتَقِلٍّ، وَبَيْنَ ذَلِكَ، وَأَمَّا السَّبَبُ: فَمَا أَنْتَ عَلَيْهِ، تَعْلُو فَيُعْلِيكَ اللَّهُ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكَ رَجُلٌ عَلَى مِنْهَاجِكَ، فَيَعْلُو وَيُعْلِيهِ اللَّهُ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمَا رَجُلٌ، فيَأْخُذُ بِأَخْذِكُمَا، فَيَعْلُو فَيُعْلِيهِ اللَّهُ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ رَجُلٌ يُقْطَعُ بِهِ، ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ، فَيَعْلُو فَيُعْلِيهِ اللَّهُ، قَالَ: أَصَبْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَصَبْتَ , وَأَخْطَأْتَ" , قَالَ: أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي , فَقَالَ:" لَا تُقْسِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے خواب دیکھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں ایک سائبان دیکھا جس سے شہد اور گھی ٹپک رہے ہیں اور لوگ آکر ان چیزوں کو اٹھا رہے ہیں، کوئی کم، کوئی زیادہ اور کوئی درمیانہ، پھر مجھے محسوس ہوا کہ ایک رسی ہے جو آسمان تک چلی گئی ہے، آپ تشریف لائے اور اسے پکڑ کر اوپر چڑھ گئے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو بلندیوں پر پہنچا دیا، پھر ایک دوسرا آدمی آیا، اس نے بھی وہ رسی پکڑی اور اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے اسے بھی بلندی پر پہنچا دیا، پھر آپ دونوں کے بعد ایک اور آدمی آیا، اس نے بھی وہ رسی تھام کر اوپر چڑھنا شروع کیا اور اللہ نے اسے بھی اوپر تک پہنچا دیا، اس کے بعد جو آدمی آیا اور اس نے رسی پکڑ کر اوپر چڑھنا شروع کیا تو وہ رسی کٹ گئی، تھوڑی دیر بعد وہ رسی جڑ گئی اور اس آدمی نے بھی اس کے ذریعے اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ اللہ نے اسے بھی اوپر پہنچا دیا۔ یہ خواب سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تو اس خواب کی تعبیر میں بیان کروں؟ اور اجازت ملنے پر کہنے لگے کہ سائبان سے مراد تو اسلام ہے، شہد اور گھی سے مراد قرآن کی حلاوت ہے جو کسی کو کم، کسی کو زیادہ اور کسی کو درمیانی حاصل ہوتی ہے، باقی رہی رسی تو اس سے مراد وہ راستہ ہے جس پر آپ ہیں، جس کی بنا پر اللہ آپ کو اونچائی تک پہنچاتا ہے، آپ کے بعد ایک شخص آتا ہے وہ بھی آپ کے طریقے اور راستے پر چلتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے بھی اوپر پہنچا دیتا ہے، تیسرے آدمی کا بھی یہی حال ہوتا ہے اور چوتھا آدمی آتا ہے تو اس کا راستہ منقطع ہو جاتا ہے، بعد میں جوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ اسے بھی اوپر پہنچا دیتا ہے، یا رسول اللہ! کیا میں نے صحیح تعبیر بیان کی؟ فرمایا: کچھ صحیح بیان کی اور کچھ میں غلطی ہوئی، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ مجھے ضرور مطلع فرمائیے (کہ میں نے کیا غلطی کی؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قسم نہ دو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2113]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7046، م: 2269. سفيان بن حسين ضعيف وفي روايته عن الزهري، قد توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 7046، م: 2269. سفيان بن حسين ضعيف وفي روايته عن الزهري، قد توبع.
حدیث نمبر: 2114 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِي ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2114]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7046، م: 2269.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7046، م: 2269.
حدیث نمبر: 2115 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، وَمُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِد ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَمُحَمَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِد ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَقَدْ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا، اس لئے تم میں سے جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہو جائے، اس لئے کہ اب عمرہ قیامت تک کے لئے حج میں داخل ہو گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2115]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1241.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1241.
حدیث نمبر: 2116 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَقَالَ:" أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً" , قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَل، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ؟" , قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ , يُقِيمُ الصَّلَاة، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً؟" , قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! فرمایا: وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو اور اللہ کے راستہ میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہو جائے یا شہید ہو جائے۔ پھر فرمایا: اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! فرمایا: وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے بدترین مقام کا حامل ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! فرمایا: وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2117 مسند احمد
يَزِيدُ ، مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَخِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ، قَالَ:" إِنَّ دِبَاغَهُ قَدْ أذَهَبَ بِخَبَثِهِ، أَوْ رِجْسِهِ، أَوْ نَجَسِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مردار جانوروں کی کھالوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ دباغت سے ان کی گندگی اور ناپاکی دور ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2117]
حکم دارالسلام
حسن، وفي سنده أخو سالم بن أبى الجعد، فيه جهالة.
الحكم: حسن، وفي سنده أخو سالم بن أبى الجعد، فيه جهالة.