بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 78 از 86
حدیث نمبر: 3378 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3378]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3379 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ضَمَّنِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بھینچ کر یہ دعا فرمائی: «اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ» اے اللہ! اسے کتاب کا علم عطا فرما۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3379]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 75
الحكم: إسناده صحيح، خ: 75
حدیث نمبر: 3380 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَمَّارٌ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصال کے وقت عمر پئینسٹھ (65) برس تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3380]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3381 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَعَرَضُوا عَلَيْهِ الْوَضُوءَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت الخلا سے باہر نکلے، آپ کے پاس کھانا لایا گیا، کسی نے عرض کیا کہ جناب والا وضو نہیں فرمائیں گے؟ فرمایا: مجھے وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کروں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3381]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 374
الحكم: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 3382 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ؟ فَقَالَ:" أُصَلِّي فَأَتَوَضَّأُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا: کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 374
الحكم: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 3383 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً، كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا، وَعُذِّبَ وَلَنْ يَنْفُخَ فِيهَا، وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَتَيْنِ أَوْ قَالَ: بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَعُذِّبَ وَلَنْ يَعْقِدَ بَيْنَهُمَا، وَمَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَكْرَهُونَهُ، صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". قَالَ إِسْمَاعِيلُ: يَعْنِي الرَّصَاصَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تصویر کشی کرتا ہے، اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونک کر دکھا، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، اسے بھی قیامت کے دن عذاب ہوگا اور اسے جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا، اور جو شخص کسی گروہ کی کوئی ایسی بات سن لے جسے وہ اس سے چھپانا چاہتے ہوں تو اس کے دونوں کانوں میں قیامت کے دن عذاب انڈیلا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3383]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3384 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا بِسَرِفَ، وَمَاتَتْ بِسَرِفَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا، اور مقام سرف میں غیر محرم ہو کر ان کے ساتھ خلوت فرمائی اور مقام سرف ہی میں وہ فوت ہو گئیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3384]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7042
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7042
حدیث نمبر: 3385 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْجَدِّ: أَمَّا الَّذِي، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُهُ"، فَإِنَّهُ قَضَاهُ أَبًا، يَعْنِي: أَبَا بَكْرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دادا کے مسئلے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اگر میں اس امت میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو انہیں بناتا، یہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق فیصلہ فرمایا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3385]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4258
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4258
حدیث نمبر: 3386 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، ابْنًَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنًَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو مجھے اہل جنت میں اکثریت فقراء کی دکھائی دی، اور جب میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں مجھے اکثریت خواتین کی دکھائی دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3386]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6449، م: 2737
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6449، م: 2737
حدیث نمبر: 3387 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: فِي السُّجُودِ فِي ص لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ،" وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورہ صٓ کا سجدہ ضروری تو نہیں ہے، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سورہ ص میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3387]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1069
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1069
حدیث نمبر: 3388 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، مُجَاهِدًا ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: سَأَلْت مُجَاهِدًا عَنْ السَّجْدَةِ الَّتِي فِي ص، فَقَالَ: نَعَمْ، سَأَلْتُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: أَتَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ وَفِي آخِرِهَا فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 84 - 90، قَالَ:" أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِدَاوُدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عوام بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے سورہ ص کے سجدے کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ ہاں! میں نے یہ مسئلہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا، انہوں نے جواب دیا تھا کہ کیا تم یہ آیت پڑھتے ہو: « ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ . . . . .﴾ [الأنعام: 84] » ان ہی کی اولاد میں سے داوؤد اور سلیمان بھی ہیں . . . . . اور اس کے آخر میں ہے کہ « ﴿فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [الأنعام:90] » آپ ان ہی کے طریقے کی پیروی کیجئے۔ گویا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت داوؤد علیہ السلام کی اقتداء کرنے کا حکم دیا گیا ہے (اور انہوں نے سجدہ کیا تھا لہذا ان کی اقتداء میں سورہ ص کی آیت سجدہ پر سجدہ کیا جائے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3388]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3421
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3421
حدیث نمبر: 3389 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ أُصَلِّي مَعَهُ، فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ لِي هَكَذَا، فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، رات کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سر سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3389]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 699
الحكم: إسناده صحيح، خ: 699
حدیث نمبر: 3390 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أُنْبِئْتُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: أُنْبِئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَجَاءَ الْمَلَكُ بِهَا، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَوْضِعِ زَمْزَمَ، فَضَرَبَ بِعَقِبِهِ فَفَارَتْ عَيْنًا، فَعَجِلَتْ الْإِنْسَانَةُ، فَجَعَلَتْ تَقْدَحُ فِي شَنَّتِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، لَوْلَا أَنَّهَا عَجِلَتْ، لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک فرشتہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے پاس آیا اور زمزم کے قریب پہنچ کر اس نے اپنی ایڑی ماری جس سے ایک چشمہ ابل پڑا، انہوں نے جلدی سے پیالے سے لے کر اپنے مشکیزے میں پانی بھرا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، اگر وہ جلدی نہ کرتیں تو وہ چشمہ قیامت تک بہتا ہی رہتا (دور دور تک پھیل جاتا)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3390]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3362
الحكم: حديث صحيح، خ: 3362
حدیث نمبر: 3391 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، شَيْخٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ مِنَ الرُّءُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی شخص نے روزے کی حالت میں بوسہ دینے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے سر کو بوسہ دیا اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3391]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الشيخ من بني سدوس
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الشيخ من بني سدوس
حدیث نمبر: 3392 مسند احمد
ابْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، أَيُّوبَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَاه ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3392]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3393 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ ، الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعَةٍ، فَأَصْبِحْ صَائِمًا". قَالَ يُونُسُ: فَأُنْبِئْتُ عَنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ قَالَ: فَقُلْتُ: أَكَذَاكَ صَامَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ جب تم محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3393]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3394 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنِّي رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ؟، قَالَ: فَإِنِّي لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، سمعتهُ يقول:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُعَذِّبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا"، قَالَ: فَرَبَا لَهَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً، فَاصْفَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَيْحَكَ، إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ، وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابوالعباس! میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، میرا ذریعہ معاش میرے ہاتھ کی کاریگری ہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہیں وہ بات بتا دیتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے کہ جو شخص تصویر سازی کرتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کرے گا تاکہ وہ ان تصویروں میں روح پھونکے، لیکن وہ کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا، یہ سن کر وہ شخص سخت پریشان ہوا اور اس کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: ارے بھئی! اگر تمہارا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا تو درختوں اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں بنا لیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3394]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2225، م: 2110
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2225، م: 2110
حدیث نمبر: 3395 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، رَجُلٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ، فَحَلَلْنَا، فَلُبِسَتْ الثِّيَابُ، وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ، وَنُكِحَتْ النِّسَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حلال ہونے کا حکم دیا، چنانچہ ہم حلال ہو گئے اور عمرہ کے بعد قمیصیں پہن لی گئیں، انگیٹھیاں خوشبوئیں اڑانے لگیں اور عورتوں سے نکاح ہونے لگے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3395]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن عباس
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن عباس
حدیث نمبر: 3396 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، لَيْثٌ ، طَاوُسٌ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: قَالَ طَاوُسٌ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ فِيهِ، وَلَكِنَّهُ اسْتَقْبَلَ زَوَايَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز نہیں پڑھی، البتہ اس کے مختلف کونوں کی طرف رخ انور کر کے کھڑے ہوئے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3396]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 3397 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، لَيْثٌ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا لَيْثٌ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر اور حضر میں ظہر اور عصر، مغرب اور عشا کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3397]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف ليث
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف ليث