إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أُنْبِئْتُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: أُنْبِئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَجَاءَ الْمَلَكُ بِهَا، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَوْضِعِ زَمْزَمَ، فَضَرَبَ بِعَقِبِهِ فَفَارَتْ عَيْنًا، فَعَجِلَتْ الْإِنْسَانَةُ، فَجَعَلَتْ تَقْدَحُ فِي شَنَّتِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، لَوْلَا أَنَّهَا عَجِلَتْ، لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک فرشتہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے پاس آیا اور زمزم کے قریب پہنچ کر اس نے اپنی ایڑی ماری جس سے ایک چشمہ ابل پڑا، انہوں نے جلدی سے پیالے سے لے کر اپنے مشکیزے میں پانی بھرا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے: ”اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، اگر وہ جلدی نہ کرتیں تو وہ چشمہ قیامت تک بہتا ہی رہتا (دور دور تک پھیل جاتا)۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3390]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3362
الحكم: حديث صحيح، خ: 3362