بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 1 از 86
حدیث نمبر: 1838 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، وَمُغِيرَةُ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، وَمُغِيرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر آب زمزم پیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1838]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1635، م: 2027.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1635، م: 2027.
حدیث نمبر: 1839 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَجْلَحُ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَجْلَحُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجَعَلْتَنِي وَاللَّهَ عَدْلًا؟ بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو: جو اللہ تنہا چاہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1839]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الأجلح مختلف فيه.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الأجلح مختلف فيه.
حدیث نمبر: 1840 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، خَالِدٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْحِكْمَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے حکمت و دانائی کی دعا فرمائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1840]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 75.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 75.
حدیث نمبر: 1841 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِمِحْجَنٍ كَانَ مَعَهُ، قَالَ: وَأَتَى السِّقَايَةَ، فَقَالَ:" اسْقُونِي"، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ، وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کنوئیں پر تشریف لائے اور فرمایا: مجھے پانی پلاؤ، لوگوں نے کہا کہ اس کنوئیں میں تو لوگ گھستے ہیں، ہم آپ کے لئے بیت اللہ سے پانی لے کر آتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے اسی جگہ سے پانی پلاؤ جہاں سے عام لوگ پیتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1841]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1607، 1635، م: 1272. وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد .
الحكم: حديث صحيح، خ: 1607، 1635، م: 1272. وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد .
حدیث نمبر: 1842 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنی سنائی خبر عینی مشاہدہ کی طرح نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1842]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس هشيم.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس هشيم.
حدیث نمبر: 1843 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا،" فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ لِأُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِذُؤَابَةٍ كَانَتْ لِي، أَوْ بِرَأْسِي حَتَّى جَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو ان ہی کے یہاں تھے، رات کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے بالوں کی ایک لٹ سے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1843]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5919، م: 763.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5919، م: 763.
حدیث نمبر: 1844 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ، رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَكُلِّمَ الْعَبَّاسُ لِيُكَلِّمَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَرِيرَةَ:" إِنَّهُ زَوْجُكِ" , فَقَالَتْ: تَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ"، قَالَ: فَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَ عَبْدًا لِآلِ الْمُغِيرَةِ يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خیار عتق مل گیا (اور اس کے مطابق انہوں نے اپنے شوہر مغیث سے علیحدگی اختیار کر لی) تو میں نے اس کے شوہر کو دیکھا کہ وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھر رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، لوگوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کرنے کے لئے کہا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ تمہارا شوہر ہے، سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس کا حکم دے رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں، اور انہیں اختیار دے دیا، انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر آل مغیرہ کا غلام تھا جس کا نام مغیث تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1844]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5283.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5283.
حدیث نمبر: 1845 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1845]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 1846 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصال کے وقت عمر مبارک 65 برس تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1846]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، على بن زيد بن جدعان ضعيف لسوء حفظه.
الحكم: إسناده ضعيف، على بن زيد بن جدعان ضعيف لسوء حفظه.
حدیث نمبر: 1847 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" الطَّعَامُ الَّذِي نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1847]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525.
حدیث نمبر: 1848 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ:" إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ، وَإِذَا لَمْ يَجِدْ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے، اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1848]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1841، م: 1178.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1841، م: 1178.
حدیث نمبر: 1849 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1849]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد.
حدیث نمبر: 1850 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ، وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1850]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206.
حدیث نمبر: 1851 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَوْفٌ ، زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ:" هَلُمَّ الْقُطْ لِي" , فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ، هُنْ حَصَى الْخَذْفِ، فَلَمَّا وَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ، قَالَ:" نَعَمْ، بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح مجھ سے فرمایا: ادھر آ کر میرے لئے کنکریاں چن کر لاؤ، میں نے کچھ کنکریاں چنیں جو ٹھیکری کی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: ہاں! اس طرح کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1851]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1852 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَافَرَ مِنَ الْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ سے سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1852]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن سيرين لا يصح له سماع من ابن عباس.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن سيرين لا يصح له سماع من ابن عباس.
حدیث نمبر: 1853 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ، وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 , قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ، رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ، سَبُّوا الْقُرْآنَ وَسَبُّوا مَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، قَالَ: فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 أَيْ بِقِرَاءَتِكَ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ، فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ، فَلَا تُسْمِعُهُمْ الْقُرْآنَ حَتَّى يَأْخُذُوهُ عَنْكَ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت قرآنی: « ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [الإسراء: 110] » جس وقت نازل ہوئی ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں روپوش تھے، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے تو قرآن کریم کی تلاوت بلند آواز سے کرتے تھے، جب مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچتی تو وہ خود قرآن کو، قرآن نازل کرنے والے کو اور قرآن لانے والے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اتنی بلند آواز سے قرأت نہ کیا کریں کہ مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچے اور وہ قرآن ہی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں، اور اتنی پست آواز سے بھی تلاوت نہ کریں کہ آپ کے ساتھی اسے سن ہی نہ سکیں، بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کریں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1853]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4722، م: 446.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4722، م: 446.
حدیث نمبر: 1854 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِوَادِي الْأَزْرَقِ، فَقَالَ:" أَيُّ وَادٍ هَذَا؟"، قَالُوا: هَذَا وَادِي الْأَزْرَقِ، فَقَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ هَابِطٌ مِنَ الثَّنِيَّةِ وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِالتَّلْبِيَةِ"، حَتَّى أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَى، فَقَالَ:" أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟" , قَالُوا: ثَنِيَّةُ هَرْشَى، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ، قَالَ هُشَيْمٌ: يَعْنِي لِيفً، وَهُوَ يُلَبِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر وادی ازرق پر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ وادی ازرق ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: گویا ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ٹیلے سے اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور وہ بآواز بلند تلبیہ کہہ رہے ہیں، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ثنیہ ہرشی نامی جگہ پر پہنچ گئے اور فرمایا کہ یہ کون سا ٹیلہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس کا نام ثنیہ ہرشی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہاں مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام کو ایک سرخ، گھنگریالے بالوں والی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں، انہوں نے اون کا بنا ہوا جبہ زیب تن کر رکھا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے درخت کی چھال سے بٹی ہوئی رسی کی ہے اور وہ تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1854]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1555، م: 166.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1555، م: 166.
حدیث نمبر: 1855 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَسَّانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَصْحَابُنَا مِنْهُمْ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَشْعَرَ بَدَنَتَهُ مِنَ الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا، وَقَلَّدَهَا بنَعْلَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دائیں جانب سے اپنی اونٹنی کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1855]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1243.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1243.
حدیث نمبر: 1856 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ الْأَسْدِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ، وَقَالَ:" إِنَّا مُحْرِمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ اسدی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں گورخر کی ٹانگ پیش کی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ واپس لوٹا کر فرمایا کہ ہم محرم ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1856]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد.
حدیث نمبر: 1857 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حدثنا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ، وَنَحْوِ ذَلِكَ فَجَعَلَ، يَقُول:" لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو قربانی کرنے سے پہلے حلق کروا لے یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر سوال کے جواب میں یہی فرماتے رہے کہ کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1857]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307.