بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 84 از 86
حدیث نمبر: 3498 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، هِشَامٌ ، قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ، ومِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 478
الحكم: إسناده صحيح، م: 478
حدیث نمبر: 3499 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3499]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5456، م: 2031
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5456، م: 2031
حدیث نمبر: 3500 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60، قَالَ:" شَيْءٌ أُرِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَقَظَةِ، رَآهُ بِعَيْنِهِ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما آیت ذیل کی وضاحت میں: « ﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ﴾ [الإسراء: 60] » ہم نے اس خواب کو جو ہم نے آپ کو دکھایا، لوگوں کے لئے ایک آزمائش ہی تو بنایا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شب معراج بیداری میں آنکھوں سے دکھائی گئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3500]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3888
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3888
حدیث نمبر: 3501 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سمعتُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يقول:" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مَالًا، لَأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ، وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر ابن آدم کے پاس مال و دولت سے بھری ہوئی پوری وادی بھی ہو تو اس کی خواہش یہی ہوگی کہ اس جیسی ایک اور وادی بھی اس کے پاس ہو، اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی، البتہ جو توبہ کر لیتا ہے اللہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں، اب یہ قرآن کا حصہ ہے یا نہیں؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3501]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6436 ، م : 1049
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6436 ، م : 1049
حدیث نمبر: 3502 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ُابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: سمعت ُابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَوَجَدْتُ لَيْلَتَهَا تِلْكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ الْأَوَّلُ، أَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُنَيَّةً، حَتَّى إِذَا أَضَاءَ لَهُ الصُّبْحُ، قَامَ فَصَلَّى الْوَتْرَ تِسْعَ رَكَعَاتٍ، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ وَتْرِهِ، أَمْسَكَ يَسِيرًا، حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ فِي نَفْسِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ، فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ جَخِيفَهُ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ فَنَبَّهَهُ لِلصَّلَاةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الصُّبْحَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آیا، رات ان ہی کے یہاں گزاری، مجھے پتہ چلا کہ آج رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تقسیم کے مطابق شب باشی کی باری ان کی تھی . . . . .، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محسوس کیا کہ فجر کا وقت قریب آ گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذرا رک کر روشنی ہونے کے بعد نو رکعتیں پڑھیں اور ان میں وتر کی نیت کر لی، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے رہے، جب روشنی ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر لیٹ رہے اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور نماز کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باہر تشریف لا کر اسی طرح نماز پڑھا دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3502]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عباد بن منصور
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عباد بن منصور
حدیث نمبر: 3503 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أن ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ" مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے، اور ترسٹھ برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3503]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3903، م: 2351
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3903، م: 2351
حدیث نمبر: 3504 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ، أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ فَقَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا، وَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری غیر موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے تو کیا اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں تو انہیں اس کا فائدہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر میں آپ گواہ بناتا ہوں کہ میرا ایک باغ ہے، وہ میں نے ان کے نام پر صدقہ کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3504]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2770
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2770
حدیث نمبر: 3505 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَذْكُرُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَصْدُرَ قَبْلَ أَنْ تَطُوفَ، إِذَا كَانَتْ قَدْ طَافَتْ فِي الْإِفَاضَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ذکر فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایام والی عورت کو طواف وداع کرنے سے پہلے جانے کی اجازت دی ہے جب کہ وہ طواف زیارت کرچکی ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3505]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 329
الحكم: إسناده صحيح، خ: 329
حدیث نمبر: 3506 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْضِهِ عَنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا، اب کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ ان کی طرف سے اسے پورا کردیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3506]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2761، م: 1638
الحكم: حديث صحيح، خ: 2761، م: 1638
حدیث نمبر: 3507 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ بْنِ رَقَبَةَ ، طَلْحَةَ الْإِيَامِيِّ ، سَعِيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ بْنِ رَقَبَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ الْإِيَامِيِّ ، عَنْ سَعِيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ :" تَزَوَّجْ، فَإِنَّ خَيْرَنَا كَانَ أَكْثَرَنَا نِسَاءً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا کہ شادی کر لو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ان کی بیویاں زیادہ تھیں (تو تم کم از کم ایک سے ہی شادی کر لو، چار سے نہ سہی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3507]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5069
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5069
حدیث نمبر: 3508 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، يَعْلَى ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ، وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِي الْمَخْرَفَ صَدَقَةٌ عَنْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس وقت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہوا، وہ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے، بعد میں انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری غیر موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے تو کیا اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں تو انہیں اس کا فائدہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا ایک باغ ہے، وہ میں نے ان کے نام پر صدقہ کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3508]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2756
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2756
حدیث نمبر: 3509 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، أَيُّوبَ ، أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَصَلَّى بِنَا الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، فَلْيَجْعَلْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب حج کا احرام باندھا تو چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے اور فجر کی نماز ہمیں مقام بطحاء میں پڑھائی اور فرمایا: جو چاہے اس احرام کو عمرہ کا احرام بنا لے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3509]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1085، م: 1240
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1085، م: 1240
حدیث نمبر: 3510 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِى سِنَانٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِى سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ؟ فَقَالَ:" لَا، بَلْ حَجَّةٌ، فَمَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ، فَهُوَ تَطَوُّعٌ، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ. لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَسْمَعُوا وَلَمْ تُطِيعُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے، یہ سن کر) اقرع بن حابس کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہو گا وہ نفلی حج ہو گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3510]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3511 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْحَجَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ، يَشْهَدُ عَلَى مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہو گا، اور ایک زبان ہو گی جس سے یہ بولتا ہو گا، اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہو گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3511]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3512 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ، فَاضْطَبَعُوا، وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ، وَوَضَعُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، ثُمَّ رَمَلُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے جعرانہ سے عمرہ کیا اور طواف کے دوران اپنی چادروں کو اپنی بغلوں سے نکال کر اضطباع کیا اور انہیں اپنے بائیں کندھوں پر ڈال لیا، اور رمل بھی کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3512]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3513 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ يَا بَنِي أَخِي، يَا بَنِي هَاشِمٍ، تَعَجَّلُوا قَبْلَ زِحَامِ النَّاسِ، وَلَا يَرْمِيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ الْعَقَبَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مزدلفہ ہی میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو ہاشم کے ہم لوگوں سے فرمایا: بھتیجو! لوگوں کے ازدحام سے پہلے نکل جاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3513]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3514 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، كَامِلٌ ، حَبِيبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا كَامِلٌ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ، قَالَ فِي رُكُوعِهِ:" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ" ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَحْمَدَهُ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ، قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ:" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى"، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ": رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْفَعْنِي، وَارْزُقْنِي، وَاهْدِنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گزاری، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کر کے فرمایا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکوع کیا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اللہ کی تعریف کی جب تک مناسب سمجھا، پھر سجدہ کیا اور سجدے میں «سُبْحَانَ رَبَّيَ الْأَعْلَىٰ» کہتے رہے، پھر سر اٹھا کر دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھی: «رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي» پروردگار! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میری تلافی فرما، مجھے رفعت عطا فرما، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے ہدایت عطا فرما۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3514]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 3515 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: تَرَاءَيْنَا هِلَالَ شَهْرِ رَمَضَانَ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَسْأَلُهُ، فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ مَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ ذات عرق میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آ گیا، ہم نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کیا کہ اللہ نے چاند کی رؤیت میں وسعت دی ہے، اس لئے اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3515]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1088
الحكم: إسناده صحيح، م: 1088
حدیث نمبر: 3516 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے، اور ترسٹھ برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3516]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3903، م: 2351
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3903، م: 2351
حدیث نمبر: 3517 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، عِكْرِمَةُ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعِينَ سَنَةً، فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ، فَهَاجَرَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے، تیرہ سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، پھر ہجرت کا حکم ملا تو دس سال مدینہ منورہ میں گزارے اور ترسٹھ برس کی عمر میں آپ کا وصال ہو گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3517]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3902
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3902