بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 83 از 86
حدیث نمبر: 3478 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَبَا مَعْبَدٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ" أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ، كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَأَنَّهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فرض نمازوں سے فراغت کے بعد اونچی آواز سے اللہ کا ذکر کرنا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں تھا، اور مجھے تو لوگوں کے نماز سے فارغ ہونے کا علم ہی جب ہوتا کہ میں یہ آواز سن لیتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3478]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 841، م: 583
الحكم: إسناده صحيح، خ: 841، م: 583
حدیث نمبر: 3479 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنَ اللَّيْلِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِكَ، فَتَوَضَّأْتُ مِنَ الْقِرْبَةِ، ثُمَّ قُمْتُ إِلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ، فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي يَعْدِلُنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي إِلَى الشِّقِّ الْأَيْمَنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، مشکیزے سے وضو کر کے نماز کے لئے کھڑے ہو گئے، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھ کر کھڑا ہوا، مشکیزے سے وضو کیا اور بائیں جانب آ کر کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کمر سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3479]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م : 863
الحكم: إسناده صحيح، م : 863
حدیث نمبر: 3480 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عِكْرِمَةَ ، كُرَيْبٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَعَنْ كُرَيْبٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ:" أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: كَانَ إِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ فِي مَنْزِلِهِ، جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ، وَإِذَا لَمْ تَزِغْ لَهُ فِي مَنْزِلِهِ، سَارَ حَتَّى إِذَا حَانَتْ الْعَصْرُ نَزَلَ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِذَا حَانَتْ الْمَغْرِبُ فِي مَنْزِلِهِ، جَمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا لَمْ تَحِنْ فِي مَنْزِلِهِ رَكِبَ، حَتَّى إِذَا حَانَتْ الْعِشَاءُ، نَزَلَ، فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ اور کریب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں تمہارے سامنے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے متعلق بیان نہ کروں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پڑاؤ کی جگہ میں اگر سورج اپنی جگہ سے ڈھلنا شروع ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار ہونے سے پہلے ظہر اور عصر کو جمع فرما لیتے، اور اگر پڑاؤ کے موقع پر ایسا نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا سفر جاری رکھتے، اور جب عصر کا وقت آتا تو پڑاؤ کرتے اور ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی پڑھتے، اسی طرح اگر مغرب کا وقت پڑاؤ میں ہی ہو جاتا تو اسی وقت مغرب اور عشا کو جمع فرما لیتے، ورنہ سفر جاری رکھتے اور عشا کا وقت ہو جانے پر پڑاؤ کرتے اور مغرب و عشا کی نماز اکٹھی پڑھ لیتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3480]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله بن عبيد الله بن عباس
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله بن عبيد الله بن عباس
حدیث نمبر: 3481 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ". قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3481]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525
حدیث نمبر: 3482 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ. قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ:" حَاضِرٌ لِبَادٍ" قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شہر کی طرف آنے والے تاجروں سے راستہ ہی میں مل کر اپنی مرضی کے بھاؤ سودا خرید لیا جائے، یا کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے خرید و فروخت کرے، راوی نے جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا معنی پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے دلال نہ بنے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3482]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2158، م: 1521
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2158، م: 1521
حدیث نمبر: 3483 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ: ولَئِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ، لَأَطَأَنَّ عَلَى عُنُقِهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ فَعَلَ، لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل کہنے لگا: اگر میں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کے پاس پہنچ کر ان کی گردن مسل دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرنے کے لئے آگے بڑھتا تو فرشتے سب کی نگاہوں کے سامنے اسے پکڑ لیتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3483]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4958
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4958
حدیث نمبر: 3484 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ أَحْسِبُهُ يَعْنِي فِي النَّوْمِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ أَوْ قَالَ نَحْرِي، فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، يَخْتَصِمُونَ فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ. قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ وَالدَّرَجَاتُ؟ قَالَ: الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ بعدَ الصَّلّواتِ، وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ، وَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ، وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَقُلْ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً، أَنْ تَقْبِضَنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ، قَالَ: وَالدَّرَجَاتُ بَذْلُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج رات مجھے خواب میں اپنے پروردگار کی زیارت ایسی بہترین شکل و صورت میں نصیب ہوئی جو میں سب سے بہتر سمجھتا ہوں، پروردگار نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، کیا تمہیں معلوم ہے کہ ملاء اعلی کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: نہیں، اس پر پروردگار نے اپنا دست مبارک میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا جس کی ٹھنڈک مجھے اپنے سینے میں محسوس ہوئی اور میں نے اس کی برکت سے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کی معلومات حاصل کر لیں، پھر اللہ نے فرمایا: اے محمد! کیا تم جانتے ہو کہ ملاء اعلی کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! وہ کفارات اور درجات کے بارے جھگڑ رہے ہیں، پوچھا: کفارات سے کیا مراد ہے؟ بتایا کہ نمازوں کے بعد مسجد میں رکنا، اپنے قدموں پر چل کر جمعہ کو آنا، اور مشقت کے باوجود (جیسے سردی میں ہوتا ہے) اچھی طرح وضو کرنا، جو شخص ایسا کر لے اس کی زندگی بھی خیر والی ہوئی اور موت بھی خیر والی ہوئی، اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جائے گا گویا کہ اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔ اور اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جب تم نماز پڑھا کرو تو یہ دعا کیا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً أَنْ تَقْبِضَنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ» اے اللہ! میں آپ سے نیکیوں کی درخواست کرتا ہوں، گناہوں سے بچنے کی دعا کرتا ہوں، اور مساکین کی محبت مانگتا ہوں، اور یہ کہ جب آپ اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں مبتلا کرنا چاہیں تو مجھے اس آزمائش میں مبتلا کئے بغیر ہی اپنی طرف اٹھا لیں۔ راوی کہتے ہیں کہ درجات سے مراد کھانا کھلانا، سلام پھیلانا اور رات کو اس وقت نماز پڑھنا ہے جب لوگ سو رہے ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3484]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو قلابة لم يسمع من ابن عباس
الحكم: إسناده ضعيف، أبو قلابة لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 3485 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ، فَتَعَاهَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا، قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ. قَالَ: فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى أَبِيهَا، فَقَالَتْ: هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِكَ فِي الْحِجْرِ، قَدْ تَعَاهَدُوا أَنْ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ، فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ. قَالَ:" يَا بُنَيَّةُ، أَدْنِي وَضُوءًا" فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: هُوَ هَذَا، فَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ، وَعُقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ، وَلَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ رَجُلٌ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ، فَحَصَبَهُمْ بِهَا، وَقَالَ:" شَاهَتْ الْوُجُوهُ". قَالَ: فَمَا أَصَابَتْ رَجُلًا مِنْهُمْ حَصَاةٌ، إِلَّا قَدْ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سرداران قریش ایک مرتبہ حطیم میں جمع ہوئے اور لات، عزی، منات، نامی اپنے معبودان باطلہ کے نام پر یہ عہد و پیمان کیا کہ اگر ہم نے محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کو دیکھ لیا تو ہم سب اکٹھے کھڑے ہوں گے اور انہیں قتل کئے بغیر ان سے جدا نہ ہوں گے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سن لی، وہ روتی ہوئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ سرداران قریش آپ کے متعلق یہ عہد و پیمان کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ آگے بڑھ کر آپ کو قتل کر دیں گے، اور ان میں سے ہر ایک آپ کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: بیٹی! ذرا وضو کا پانی تو لاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد حرام میں تشریف لے گئے، ان لوگوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: وہ یہ رہے، لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ انہوں نے اپنی نگاہیں جھکا لیں، اور ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں پر لٹک گئیں، اور وہ اپنی اپنی جگہ پر حیران پریشان بیٹھے رہ گئے، وہ نگاہ اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ سکے اور نہ ہی ان میں سے کوئی آدمی اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف بڑھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف چلتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں کے پاس پہنچ کر کھڑے ہو گئے اور ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور فرمایا: یہ چہرے بگڑ جائیں اور وہ مٹی ان پر پھینک دی، جس جس شخص پر وہ مٹی گری، وہ جنگ بدر کے دن کفر کی حالت میں مارا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3485]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3486 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عُثْمَانَ الْجَزَرِيِّ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُثْمَانَ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَايَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَرَايَةَ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، وَكَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَكُونَ تَحْتَ رَايَةِ الْأَنْصَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جھنڈا مہاجرین کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ہوتا تھا اور انصار کی طرف سے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس، اور جب جنگ زوروں پر ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انصار کے جھنڈے کے نیچے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3486]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عثمان الجزري ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، عثمان الجزري ضعيف
حدیث نمبر: 3487 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَسُئِلَ: هَلْ شَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، وَلَوْلَا قَرَابَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، فَوَعَظَ النِّسَاءَ، وَذَكَّرَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَأَهْوَيْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ فَتَصَدَّقْنَ بِهِ، قَالَ: فَدَفَعْنَهُ إِلَى بِلَالٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عابس کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عید کے موقع پر شریک ہوئے ہیں؟ فرمایا: ہاں! اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ میرا تعلق نہ ہوتا تو اپنے بچپن کی وجہ سے میں اس موقع پر کبھی موجود نہ ہوتا، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور دار کثیر بن الصلت کے قریب دو رکعت نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، اور عورتوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ دینے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے اپنے کانوں اور گلوں سے اپنے زیورات اتارے اور انہیں صدقہ کرنے کے لئے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3487]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 863
الحكم: إسناده صحيح، خ: 863
حدیث نمبر: 3488 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى أَنْ يَنْزِلَ الْأَبْطَحَ، وَيَقُولُ: إِنَّمَا أَقَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ابطح میں پڑاؤ کرنے کے قائل نہ تھے، اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہاں صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے قیام کیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3488]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعنعنة الحجاج بن أرطاة
الحكم: إسناده ضعيف لعنعنة الحجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 3489 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُودَى الْمُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ عَبْدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی، اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3489]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3490 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، فَبِتُّ عِنْدَهَا، فَوَجَدْتُ لَيْلَتَهَا تِلْكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى نَاحِيَةٍ مِنْهَا، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ فَإِذَا عَلَيْهِ لَيْلٌ، فعاد فَسَبَّحَ وَكَبَّرَ حَتَّى نَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، أَوْ قَالَ: ثُلُثَاهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى قِرْبَةٍ عَلَى شَجْبٍ فِيهَا مَاءٌ، فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مّرةً، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ، قَالَ يَزِيدُ: حَسِبْتُهُ قَالَ: ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَتَى مُصَلَّاهُ، فَقُمْتُ وَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ، فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا عَرَفَ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ، لَفَتَ يَمِينَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي، فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ دَنَا، قَامَ فَصَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ، أَوْتَرَ بِالسَّابِعَةِ، حَتَّى إِذَا أَضَاءَ الْفَجْرُ، قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ فَنَامَ، حَتَّى سَمِعْتُ فَخِيخَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ بِلَالٌ، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى وَمَا مَسَّ مَاءً". فَقُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: مَا أَحْسَنَ هَذَا! فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: أَمَا وَاللَّهِ، لَقَدْ قُلْتُ ذَاكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَهْ، إِنَّهَا لَيْسَتْ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ، إِنَّهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُ كَانَ يَحْفَظُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آیا، رات ان ہی کے یہاں گزاری، مجھے پتہ چلا کہ آج رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تقسیم کے مطابق شب باشی کی باری ان کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشا کی نماز پڑھ کر گھر میں داخل ہوئے اور چمڑے کے بنے ہوئے اس تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گئے جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، میں نے بھی آ کر اس تکیے کے ایک کونے پر سر رکھ دیا، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے، دیکھا تو ابھی رات کافی باقی تھی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ بستر پر واپس آ کر تسبیح و تکبیر کہی اور سو گئے۔ دوبارہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے تو رات کا ایک یا دو تہائی حصہ بیت چکا تھا، لہذا اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو گئے، قضاء حاجت کی اور ستون خانے میں لٹکی ہوئی مشک کے پاس آئے جس میں پانی تھا، اس سے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے، پھر سر اور کانوں کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، اور اپنی جائے نماز پر جا کر کھڑے ہو گئے، میں نے بھی کھڑے ہو کر وہی کچھ کیا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا، اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، ارادہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز میں شریک ہو جاؤں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تھوڑی دیر تو کچھ نہیں کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھ گئے کہ میں ان ہی کی نماز میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہوں تو اپنا داہنا ہاتھ بڑھا کر میرا کان پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے جب تک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رات کا احساس باقی رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محسوس کیا کہ فجر کا وقت قریب آ گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھ رکعتیں پڑھیں اور ساتویں میں وتر کی نیت کر لی، جب روشنی ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر لیٹ رہے اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور نماز کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باہر تشریف لا کر اسی طرح نماز پڑھا دی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے پوچھا کہ یہ کوئی اچھا کام ہے؟ حضرت سعید رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ واللہ! میں نے بھی یہی بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھی تھی تو انہوں نے فرمایا تھا: خبردار! یہ حکم تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا نہیں ہے، یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خاص ہے کیونکہ سوتے میں بھی ان کی حفاظت کی جاتی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3490]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عباد بن منصور ضعيف
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عباد بن منصور ضعيف
حدیث نمبر: 3491 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ، أَيَتَطَيَّبُ؟ فَقَالَ:" أَمَّا أَنَا، فَقَدْ رَأَيْتُ الْمِسْكَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفَمِنْ الطِّيبِ هُوَ أَمْ لَا؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا: جمرہ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد کیا خوشبو لگانا بھی جائز ہو جائے گا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے سر پر مسک نامی خوشبو لگاتے ہوئے دیکھا ہے، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3491]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع بين الحسن بن عبدالله العرني وبين ابن عباس
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع بين الحسن بن عبدالله العرني وبين ابن عباس
حدیث نمبر: 3492 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِّثْنِي عَنِ الرُّكُوبِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ. فَقَالَ:" صَدَقُوا وَكَذَبُوا"، قُلْتُ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا. مَاذَا؟، قَالَ:" قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، فَخَرَجُوا حَتَّى خَرَجَتْ الْعَوَاتِقُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ عِنْدَهُ أَحَدٌ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ وَهُوَ رَاكِبٌ، وَلَوْ نَزَلَ لَكَانَ الْمَشْيُ أَحَبَّ إِلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا: یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ہٹتے نہیں تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جا سکتا تھا، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی، اگر وہ سواری پر نہ ہوتے تو انہیں پیدل چلنا ہی زیادہ محبوب ہوتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3492]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1264
الحكم: حديث صحيح، م: 1264
حدیث نمبر: 3493 مسند احمد
مُعَاذٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" قَدْ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ہم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3493]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن سيرين لم يدرك ابن عباس
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن سيرين لم يدرك ابن عباس
حدیث نمبر: 3494 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّلَاةِ بِالْبَطْحَاءِ، إِذَا فَاتَنِي الصَّلَاةُ فِي الْجَمَاعَةِ؟ فَقَالَ:" رَكْعَتَيْنِ، تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ جب آپ کو مسجد میں باجماعت نماز نہ ملے اور آپ مسافر ہوں تو کتنی رکعتیں پڑھیں گے؟ انہوں نے فرمایا: دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3494]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 688
الحكم: صحيح، م: 688
حدیث نمبر: 3495 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَاسْتَسْقَى فَسَقَيْنَاهُ نَبِيذًا، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَ فَضْلَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَقَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ، فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا"، فَنَحْنُ لَا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اونٹ پر سوار مسجد میں داخل ہوئے، ان کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب کیا، ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پس خوردہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا: تم نے اچھا کیا اور خوب کیا، اسی طرح کیا کرو، یہی وجہ ہے کہ اب ہم اسے بدلنا نہیں چاہتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3495]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1316
الحكم: إسناده صحيح، م: 1316
حدیث نمبر: 3496 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، مِسْعَرٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ"، قَالَ مِسْعَرٌ وَأَظُنُّهُ قَالَ:" أَوْ عَلَفًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلہ خریدے، اسے قبضہ سے قبل آگے مت فروخت کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3496]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2130، م: 1525
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2130، م: 1525
حدیث نمبر: 3497 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَاصِمٌ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو زمزم پلایا جو انہوں نے کھڑے کھڑے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3497]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027