بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 59 از 86
حدیث نمبر: 2998 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِمَاعِزٍ حِينَ قَالَ: زَنَيْتُ:" لَعَلَّكَ غَمَزْتَ، أَوْ قَبَّلْتَ، أَوْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟"، قَالَ: كَأَنَّهُ يَخَافُ أَنْ لَا يَدْرِيَ مَا الزِّنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: شاید تم نے اس کے ساتھ چھیڑ خانی کی ہوگی؟ یا بوسہ دے دیا ہوگا؟ یا اسے دیکھا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو در اصل یہ اندیشہ تھا کہ کہیں اسے زنا کا مطلب ہی معلوم نہ ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6824
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6824
حدیث نمبر: 2999 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جِبْرِيلَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَلَمَّا كَانَتْ السَّنَةُ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا، عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ، فَكَانَتْ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ آخِرَ الْقِرَاءَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر سال جبرئیل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قراءت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2999]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم بن مهاجر لين الحديث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم بن مهاجر لين الحديث
حدیث نمبر: 3000 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سورة الأنعام آية 152 عَزَلُوا أَمْوَالَ الْيَتَامَى، حَتَّى جَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسُدُ، وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ سورة البقرة آية 220 قَالَ: فَخَالَطُوهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [الإسراء: 34] » یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اچھے طریقے سے، تو لوگوں نے یتیموں کا مال اپنے مال سے جدا کر لیا، جس کی وجہ سے نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ کھانا سڑنے لگا اور گوشت میں بدبو پیدا ہونے لگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جب اس صورت حال کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ﴾ [البقرة: 220] » اگر تم ان کو اپنے ساتھ شریک کر لو تو وہ تہمارے بھائی ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ کون اصلاح کرنے والا ہے اور کون فساد کرنے والا؟ تب جا کر انہوں نے اپنے مال کے ساتھ ان کا مال شریک کر لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3000]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عطاء بن السائب كان قد أختلط
الحكم: إسناده ضعيف، عطاء بن السائب كان قد أختلط
حدیث نمبر: 3001 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ: عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ. قَالَ: فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ: إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ، إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے - جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے - پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا: کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3001]
حکم دارالسلام
رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب. صححه الحاكم، وجود إسناده أبن كثير، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح
الحكم: رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب. صححه الحاكم، وجود إسناده أبن كثير، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح
حدیث نمبر: 3002 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3002]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، م: 1934
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، م: 1934
حدیث نمبر: 3003 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، الْأَعْمَشِ ، الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ النَّحْرِ، وَعَلَيْنَا سَوَادٌ مِنَ اللَّيْلِ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ أَفْخَاذَنَا، وَيَقُولُ:" أَبَنِيَّ، أَفِيضُوا، وَلَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مزدلفہ ہی میں - جبکہ رات کچھ باقی تھی - نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو ہاشم کے ہم کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کی جماعت کے پاس آئے جو اپنے گدھوں پر سوار تھے اور ہماری رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمانے لگے: پیارے بچو! تم روانہ ہوجاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3004 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ، وَيُصَلِّ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتدا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو اٹھارہ رکعتیں پڑھتے تھے، تین رکعت وتر اور دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3004]
حکم دارالسلام
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3005 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، الْمَسْعُودِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الَّرحْمَنِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الَّرحْمَنِ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بَرَّةَ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3005]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2140
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2140
حدیث نمبر: 3006 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، الْمَسْعُودِيُّ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ، فَجَعَلَ يُوصِيهِمْ أَنْ لَا يَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا اور انہیں وصیت فرمانے لگے کہ طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3006]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 3007 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: تَزَوَّجَ فُلَانٌ، فَقَرَّبَ إِلَيْنَا طَعَامًا، فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا، فَبَيْنَ آكِلٍ وَتَارِكٍ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ، وَلَا آمُرُ بِهِ، وَلَا أَنْهَى عَنْهُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِئْسَ مَا تَقُولُونَ، مَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا، قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَدَّ يَدَهُ، لِيَأْكُلَ مِنْهُ، فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ. فَكَفَّ يَدَهُ، وَقَالَ:" هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ، فَكُلُوا" فَأَكَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَامْرَأَةٌ كَانَتْ مَعَهُمْ، وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: لَا آكُلُ مِمَّا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ فلاں آدمی کی شادی ہوئی، اس نے ہماری دعوت کی، اس نے دستر خوان پر تیرہ عدد گوہ لاکر پیش کیں، شام کا وقت تھا، کسی نے اسے کھایا اور کسی نے اجتناب کیا، ان کے ساتھی بڑھ چڑھ کر بولنے لگے حتی کہ بعض لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام کرتا ہوں، نہ ہی اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ممانعت کرتا ہوں، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ تم نے غلط کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تو بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ حلال و حرام کی تعیین کر دیں۔ پھر فرمایا: دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک دستر خوان پیش کیا گیا جس پر روٹی اور گوہ کا گوشت رکھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب اسے تناول فرمانے کا ارادہ کیا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ گوہ کا گوشت ہے، یہ سنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: یہ ایسا گوشت ہے جو میں نہیں کھاتا، البتہ تم کھا لو، چنانچہ سیدنا فضل، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھ موجود خاتون نے اسے کھا لیا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ جو کھانا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں کھاتے میں بھی نہیں کھاتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3007]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3008 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، مُطَرِّفٌ ، عَطِيَّةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ سورة المدثر آية 8، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَسَّمَّعُ مَتَى يُؤْمَرُ، فَيَنْفُخُ؟"، فَقَالَ: أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ: كَيْفَ نَقُولُ؟ قَالَ:" قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ، وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت قرآنی: « ﴿فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ﴾ [المدثر: 8] » جب صور پھونکا جائے گا۔ کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں عیش و عشرت کی زندگی کیسے بسر کر سکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ میں لے رکھا ہے اور اپنی پیشانی کو حکم سننے کے لئے جھکا رکھا ہے کہ جیسے ہی حکم ملے، صور پھونک دے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمیں کیا دعا پڑھنی چاہیے؟ فرمایا: یہ کہتے رہا کرو: «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا» ۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3008]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف عطية
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف عطية
حدیث نمبر: 3009 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ كَيْفَ تَرَى فِيهِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3009]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3010 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَلَى جِبْرِيلَ، فَيُصْبِحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَيْلَتِهِ الَّتِي يَعْرِضُ فِيهَا مَا يَعْرِضُ، وَهُوَ أَجْوَدُ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ، لَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعْطَاهُ، حَتَّى كَانَ الشَّهْرُ الَّذِي هَلَكَ بَعْدَهُ، عَرَضَ فِيهِ عَرْضَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو بھی مانگا جاتا، آپ وہ عطا فرما دیتے، اور جس سال رمضان کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا، اس سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دو مرتبہ قرآن کریم سنایا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3010]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن إسحاق وهو صدوق حسن الحديث، وإن كان مدلسا وقد عنعن، وقد توبع ، خ: 6، م: 2308
الحكم: حديث صحيح، محمد بن إسحاق وهو صدوق حسن الحديث، وإن كان مدلسا وقد عنعن، وقد توبع ، خ: 6، م: 2308
حدیث نمبر: 3011 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَمُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ وَمُؤَمَّلٌ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا رَجُلًا مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَتَلُوهُ، فَسَأَلُوا أَنْ يَشْتَرُوا جِيفَتَهُ." فنهاهم النبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال مؤمَّلٌ: فنهاهم النبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن يَبِيعوا جِيفَتَه".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک بڑا آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس کی لاش بیچنے سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3011]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 3012 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ: اجْلِسْ، فَإِنَّ الْقِدْرَ قَدْ نَضِجَتْ، فَنَاوَلَتْهُ كَتِفًا، فَأَكَلَ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز والا وضو کیا تو کسی زوجہ محترمہ نے عرض کیا کہ تشریف رکھئے، ہنڈیا تیار ہو گئی ہے، یہ کہہ کر انہوں نے شانے کا گوشت پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور ہاتھ پونچھ کر نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3012]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 207
الحكم: حديث صحيح، خ: 207
حدیث نمبر: 3013 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، وُهَيْبٌ ، ابْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3013]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2589، م: 1622
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2589، م: 1622
حدیث نمبر: 3014 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ فَرُّوخَ ، حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَامَ، فَصَلَّى، فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، كَبَّرَ، وَإِذَا وَضَعَ رَأْسَهُ، كَبَّرَ، وَإِذَا مَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، كَبَّرَ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہوا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، وہ سر اٹھاتے ہوئے، جھکاتے ہوئے اور دو رکعتوں سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہتا تھا، میں نے اسے عجیب سمجھ کر یہ واقعہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز اسی طرح نہیں ہوتی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3014]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3015 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، نُوحُ بْنُ جَعْوَنَةَ السُّلَمِيُّ ، مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ جَعْوَنَةَ السُّلَمِيُّ ، خُرَاسَانِيٌّ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَأَوْمَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ:" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ وَضَعَ لَهُ، وَقَاهُ اللَّهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا، أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ، وَمَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ، مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ لِلَّهِ إِلَّا مَلَأَ اللَّهُ جَوْفَهُ إِيمَانًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے جا رہے تھے کہ جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے دے، یا اسے معاف کر دے تو اللہ اسے جہنم کی گرمی سے محفوظ فرما دے گا، یاد رکھو! جنت کے اعمال ٹیلے کی طرح سخت ہیں، اور جہنم کے اعمال نرم کمان کی طرح آسان ہیں، خوش نصیب ہے وہ آدمی جو فتنوں سے محفوظ ہو، اور انسان غصہ کا جو گھونٹ پیتا ہے، مجھے اس سے زیادہ کوئی گھونٹ پسند نہیں ہے، جو شخص اللہ کی رضا کے لئے غصہ کا گھونٹ پی جاتا ہے، اللہ اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3015]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، نوح بن جعونه لا يعرف الجرح ولا تعديل، ولم يرو عنه غير عبدالله بن يزيد المقرئ فهو مجهول
الحكم: إسناده ضعيف جدا، نوح بن جعونه لا يعرف الجرح ولا تعديل، ولم يرو عنه غير عبدالله بن يزيد المقرئ فهو مجهول
حدیث نمبر: 3016 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ، فَقَالَ:" لِمَنْ كَانَتْ هَذِهِ الشَّاةُ؟" فَقَالُوا: لِمَيْمُونَةَ. قَالَ:" أَفَلَا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کس کی بکری ہے؟ لوگوں نے بتایا: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3016]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1492، م: 363
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1492، م: 363
حدیث نمبر: 3017 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَرْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي فَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَنَزَلْنَا وَدَخَلْنَا مَعَهُ، فَمَا قَالَ لَنَا فِي ذَلِكَ شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر گزر رہے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحرا میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم اپنی سواری سے اترے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کچھ نہیں کہا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3017]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شعبة مولى ابن عباس، وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
الحكم: حديث صحيح، شعبة مولى ابن عباس، وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع