بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 30 از 86
حدیث نمبر: 2418 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنِي هَذَا بِهِ جُنُونٌ يَأْخُذُهُ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا، فَيَخْبُثُ عَلَيْنَا" فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا" , فَثَعَّ ثَعَّةً يَعْنِي: سَعَل، فَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اسے کوئی تکلیف ہے، کھانے کے دوران جب اسے وہ تکلیف ہوتی ہے تو یہ ہمارا سارا کھانا خراب کر دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا فرمائی، اچانک اس بچے کو قئی ہوئی اور اس کے منہ سے ایک کالے بلے جیسی کوئی چیز نکلی اور بھاگ گئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2418]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف فرقد السبخي
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف فرقد السبخي
حدیث نمبر: 2419 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عنْ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، أَوَاجِبٌ هُوَ؟ قَالَ: لَا , وَمَنْ شَاءَ اغْتَسَلَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ بَدْءِ الْغُسْلِ: كَانَ النَّاسُ مُحْتَاجِينَ، وَكَانُوا يَلْبَسُونَ الصُّوفَ، وَكَانُوا يَسْقُونَ النَّخْلَ عَلَى ظُهُورِهِمْ، وَكَانَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَيِّقًا مُتَقَارِبَ السَّقْفِ، فَرَاحَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَعَرِقُوا، وَكَانَ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصِيرًا، إِنَّمَا هُوَ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ، فَعَرِقَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَثَارَتْ أَرْوَاحُهُمْ، أَرْوَاحُ الصُّوفِ، فَتَأَذَّى بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ، حَتَّى بَلَغَتْ أَرْوَاحُهُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِذَا جِئْتُمْ الْجُمُعَةَ، فَاغْتَسِلُوا، وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ مِنْ أَطْيَبِ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا غسل جمعہ واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، جو چاہے غسل کر لے (اور نہ چاہے تو نہ کرے)، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جمعہ کے دن غسل کا آغاز کس طریقے سے ہوا تھا؟ لوگ غریب ہوا کرتے تھے، اون کا لباس پہنا کرتے تھے، باغات کو سیراب کرنے کے لئے اپنی کمر پر پانی لاد کر لایا کرتے تھے، اور مسجد نبوی تنگ تھی، اس کی چھت بھی نیچی تھی، لوگ جب اون کے کپڑے پہن کر کام کرتے تو انہیں پسینہ آتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا منبر بھی چھوٹا تھا اور اس میں صرف تین سیڑھیاں تھیں، ایک مرتبہ جمعہ کے دن لوگوں کو اپنے اونی کپڑوں میں پسینہ آیا ہوا تھا، جس کی بو پھیل رہی تھی اور کچھ لوگ اس کی وجہ سے تنگ ہو رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی - جبکہ وہ منبر پر تھے - اس کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا: لوگو! جب تم جمعہ کے لئے آیا کرو تو غسل کر کے آیا کرو اور جس کے پاس جو خوشبو سب سے بہترین ہو، وہ لگا کر آیا کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2419]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2420 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ، فَاقْتُلُوهُ، وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی جانور سے بدفعلی کرے، اس شخص کو بھی قتل کر دو اور اس جانور کو بھی قتل کر دو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2420]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، لكن هذا الحديث من منكرات عمرو بن أبى عمرو
الحكم: إسناده حسن، لكن هذا الحديث من منكرات عمرو بن أبى عمرو
حدیث نمبر: 2421 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، وُهَيْبٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فِي الرَّمْيِ , وَالذَّبْحِ , وَالْحَلْقِ:" لَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قربانی، رمی اور حلق یا تربیت میں کوئی اور تبدیلی ہو جائے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2421]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1734، م: 1307
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1734، م: 1307
حدیث نمبر: 2422 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَعْطِ ابْنَ عَبَّاسٍ الْحِكْمَةَ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: اے اللہ! ابن عباس کو دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2422]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 2423 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، هِشَامَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي هِشَامَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَ الْوَلِيدُ، يَسْأَلُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؟ فَقَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا، فَأَتَى الْمُصَلَّى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ولید نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نماز استسقاء کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول مبارک پوچھنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح (نماز استسقاء پڑھانے کے لئے) باہر نکلے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خشوع و خضوع اور عاجزی وزاری کرتے ہوئے، (کسی قسم کی زیب و زینت کے بغیر، آہستگی اور وقار کے ساتھ چل رہے تھے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2423]
حکم دارالسلام
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 2424 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، سِمَاكٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، وَمِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2424]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك بن حرب عن عكرمة خاصة مضطرب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك بن حرب عن عكرمة خاصة مضطرب
حدیث نمبر: 2425 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، سِمَاكٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا صَفَرَ وَلَا هَام" , فَذَكَرَ سِمَاكٌ أَنَّ الصَّفَرَ: دَابَّةٌ تَكُونُ فِي بَطْنِ الْإِنْسَانِ , فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَكُونُ فِي الْإِبِلِ الْجَرِبَةُ فِي الْمِئَةِ، فَتُجْرِبُهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں، بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، صفر کا مہینہ یا الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، (سماک کہتے ہیں کہ صفر انسان کے پیٹ میں ایک کیڑا ہوتا ہے)، ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے (اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ بتاؤ! اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2425]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب، قد توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب، قد توبع
حدیث نمبر: 2426 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، سِمَاكٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2426]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب
حدیث نمبر: 2427 مسند احمد
مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْإِبِلِ وَالْخَيْلِ" , فَمَا رَأَيْتُ نَاقَةً رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً، حَتَّى بَلَغَتْ جَمْعًا، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْإِبِلِ وَالْخَيْلِ" , فَمَا رَأَيْتُ نَاقَةً رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً، حَتَّى بَلَغَتْ مِنًى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا: سکون سے چلو، گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ سے منی تک سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمانے لگے: لوگو! سکون اور وقار سے چلو کیونکہ گھوڑے اور اونٹ تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، اس کے بعد میں نے کسی سواری کو سرپٹ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ منی پہنچ گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2427]
حکم دارالسلام
صحيح، مؤمل بن اسماعيل سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: صحيح، مؤمل بن اسماعيل سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2428 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ مِائَةَ بَدَنَةٍ، فِيهَا جَمَلٌ أَحْمَرُ لِأَبِي جَهْلٍ، فِي أَنْفِهِ بُرَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی، جن میں ابوجہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2428]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ وكذا ابن أبي ليلى
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ وكذا ابن أبي ليلى
حدیث نمبر: 2429 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2429]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف مؤمل وعبدالأعلى
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف مؤمل وعبدالأعلى
حدیث نمبر: 2430 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مُغِيبًا أَتَتْ رَجُلًا تَشْتَرِي مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ: ادْخُلِي الدَّوْلَجَ حَتَّى أُعْطِيَكِ , فَدَخَلَتْ، فَقَبَّلَهَا وَغَمَزَهَا، فَقَالَتْ: وَيْحَكَ، إِنِّي مُغِيبٌ , فَتَرَكَهَا، وَنَدِمَ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ، فَأَتَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، فَلَعَلَّهَا مُغِيبٌ! قَالَ: فَإِنَّهَا مُغِيبٌ , قَالَ: فائْتِ أَبَا بَكْرٍ فَاسْأَلْهُ، فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَيْحَكَ، لَعَلَّهَا مُغِيبٌ! قَالَ: فَإِنَّهَا مُغِيبٌ , قَالَ: فَائتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّهَا مُغِيبٌ!" , قَالَ: فَإِنَّهَا مُغِيبٌ , فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِلَى قَوْلِهِ لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 , قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَهِيَ فِيَّ خَاصَّةً، أَوْ فِي النَّاسِ عَامَّةً؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: لَا، وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ لَكَ، بَلْ هِيَ لِلنَّاسِ عَامَّةً , قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" صَدَقَ عُمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ ایک شخص کے پاس کچھ خریداری کرنے کے لئے آئی، اس نے اس عورت سے کہا کہ گودام میں آ جاؤ، میں تمہیں وہ چیز دے دیتا ہوں، وہ عورت جب گودام میں داخل ہوئی تو اس نے اسے بوسہ دے دیا اور اس سے چھیڑ خانی کی، اس عورت نے کہا کہ افسوس! میرا تو شوہر بھی غائب ہے، اس پر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اپنی حرکت پر نادم ہوا، پھر وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس مسئلے کا حل تم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے معلوم کرو، چنانچہ اس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا، پھر انہوں نے اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس عورت کا خاوند موجود نہیں ہوگا؟ اور اس کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوگئی: «‏‏‏‏ ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ [هود: 114] » دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کیجئے، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔ اس آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا قرآن کریم کا یہ حکم خاص طور پر میرے لئے ہے یا سب لوگوں کے لئے یہ عمومی حکم ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: تو اتنا خوش نہ ہو، یہ سب لوگوں کے لئے عمومی حکم ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ عمر نے سچ کہا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2430]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف مؤمل وعلي بن زيد ولين يوسف بن مهران
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف مؤمل وعلي بن زيد ولين يوسف بن مهران
حدیث نمبر: 2431 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِي قَوْلِ الْجِنِّ: وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا سورة الجن آية 19 , قَالَ:" لَمَّا رَأَوْهُ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ، وَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، وَيَرْكَعُونَ بِرُكُوعِهِ، وَيَسْجُدُونَ بِسُجُودِهِ، تَعَجَّبُوا مِنْ طَوَاعِيَةِ أَصْحَابِهِ لَهُ، فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، قَالُوا: إِنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ، كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جنات کے اس قول: « ﴿وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا﴾ [الجن: 19] » کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھا رہے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز میں آپ کی اقتداء کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رکوع پر خود رکوع کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سجدے پر خود سجدہ کر رہے ہیں، تو انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اطاعت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تعجب ہوا، چنانچہ جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ کر گئے تو کہنے لگے کہ جب اللہ کا بندہ یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوتے ہیں تو قریب ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ان کے لئے بھیڑ لگا کر جمع ہو جائیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2431]
حکم دارالسلام
صحيح، مؤمل بن إسماعيل، سيئ الحفظ، قد توبع
الحكم: صحيح، مؤمل بن إسماعيل، سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 2432 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، جَرِيرٌ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، عَاصِبًا رَأْسَهُ فِي خِرْقَةٍ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَلَكِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ , سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے مرض الوفات میں اپنے سر مبارک پر پٹی باندھے ہوئے نکلے، منبر پر رونق افروز ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا کہ اپنی جان اور اپنے مال کے اعتبار سے ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والا کوئی نہیں ہے، اگر میں انسانوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی خلقت سب سے افضل ہے، اس مسجد میں کھلنے والی ہر کھڑکی کو بند کر دو، سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2432]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 467
الحكم: إسناده صحيح، خ: 467
حدیث نمبر: 2433 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، جَرِيرٌ ، يَعْلَي بْنِ حَكِيمٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَعْلَي بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا أَتَاهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ غَمَزْتَ، أَوْ نَظَرْتَ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنِكْتَهَا؟" , لَا يُكَنِّي، قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا، یا چھیڑ خانی کی ہوگی، یا دیکھا ہوگا؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! تب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2433]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6824
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6824
حدیث نمبر: 2434 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ , وَالْحُسَيْنَ، فَيَقُولُ:" أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ" , ثُمَّ يَقُولُ:" هَكَذَا كَانَ أَبِي إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام يُعَوِّذُ إِسْمَاعِيلَ , وَإِسْحَاقَ عَلَيْهِمَا السَّلَام".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا حسنین رضی اللہ عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے: «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَةِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» میں تم دونوں کو اللہ کی صفات کاملہ کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور ہر غم سے اور ہر قسم کی نظر بد سے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے والد یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے دونوں بیٹوں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام پر یہی کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2434]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3371
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3371
حدیث نمبر: 2435 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَعْلَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّا نَغْزُو، فَنُؤْتَى بِالْإِهَابِ وَالْأَسْقِيَةِ , قَالَ: مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ، إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ، فَقَدْ طَهُرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2435]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 366
الحكم: إسناده صحيح، م: 366
حدیث نمبر: 2436 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ، وَلَا يَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2436]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
الحكم: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
حدیث نمبر: 2437 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2437]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410