بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 6 از 86
حدیث نمبر: 1938 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الأَيَّامِ، غَيْرَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ"، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أُخْرَى إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَعْنِي: عَاشُورَاءَ، وَهَذَا الشَّهْرَ شَهْرَ , رَمَضَانَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشورہ کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1938]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2006، م: 1132.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2006، م: 1132.
حدیث نمبر: 1939 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ یعنی عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات جلدی لے کر روانگی اختیار کی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1939]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1856، م: 1293.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1856، م: 1293.
حدیث نمبر: 1940 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ، وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرًا أَوْ ثَوْبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1940]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 809، م: 490.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490.
حدیث نمبر: 1941 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمَّارٍ ، سَالِمٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنْ سَالِمٍ , سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَجُلٍ، قَتَلَ مُؤْمِنًا، ثُمَّ تَابَ، وَآمَنَ، وَعَمِلَ صَالِحًا، ثُمَّ اهْتَدَى، قَالَ: وَيْحَكَ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى، سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَجِيءُ الْمَقْتُولُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ، يَقُولُ: يَا رَبِّ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي"، وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا نَسَخَهَا بَعْدَ إِذْ أَنْزَلَهَا، قَالَ: وَيْحَكَ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا پھر توبہ کر کے ایمان لے آیا، نیک اعمال کئے اور راہ ہدایت پر گامزن رہا؟ فرمایا: تم پر افسوس ہے، اسے کہاں ہدایت ملے گی؟ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ وہ قاتل کے ساتھ لپٹا ہوا ہوگا، اور کہتا ہوگا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا تھا؟ واللہ! اللہ نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل کی تھی، اور اسے نازل کرنے کے بعد کبھی منسوخ نہیں فرمایا، تم پر افسوس ہے، اسے ہدایت کہاں ملے گی؟ فائدہ: یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے ہے، جہمور امت اس بات پر متفق ہے کہ قاتل اگر توبہ کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح سے اپنے آپ کو مزین کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے، حقوق العباد کی ادائیگی یا سزا کی صورت میں بھی بہرحال کلمہ کی برکت سے وہ جہنم سے کسی نہ کسی وقت ضرور نجات پا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1941]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1942 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، يَزِيدُ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ ، عَنِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ، فِي قَمِيصِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَحُلَّةٍ نَجْرَانِيَّةٍ، الْحُلَّةُ ثَوْبَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا، ایک اس قمیص میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا تھا، اور ایک نجرانی حلے میں، اور حلے میں دو کپڑے ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1942]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، يزيد بن أبى زياد ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف، يزيد بن أبى زياد ضعيف.
حدیث نمبر: 1943 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1943]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف يزيد بن أبى زياد.
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف يزيد بن أبى زياد.
حدیث نمبر: 1944 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فِي الْمُكَاتَبِ:" يَعْتِقُ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ، وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ مِنْهُ دِيَةَ الْعَبْدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کر دیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کر چکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی، اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1944]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1945 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَمَّارٌ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هِشَامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ، وَسِتِّينَ سَنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصال کے وقت عمر مبارک 65 برس تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1945]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات غير عمار بن أبى عمار فمن رجال مسلم، لكن لا يتابع عليه فى هذا الحديث. والثقات يروونه عن ابن عباس بلفظ: ابن ثلاث وستين.
الحكم: رجاله ثقات غير عمار بن أبى عمار فمن رجال مسلم، لكن لا يتابع عليه فى هذا الحديث. والثقات يروونه عن ابن عباس بلفظ: ابن ثلاث وستين.
حدیث نمبر: 1946 مسند احمد
جَرِيرٌ ، قَابُوسَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" آخِرُ شِدَّةٍ يَلْقَاهَا الْمُؤْمِنُ الْمَوْتُ، وَفِي قَوْلِهِ يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ سورة المعارج آية 8، قَالَ: كَدُرْدِيِّ الزَّيْتِ، وَفِي قَوْلِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ سورة آل عمران آية 113، قَالَ: جَوْفُ اللَّيْلِ، وَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: هُوَ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ مِنَ الأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آخری وہ سختی جس سے مسلمان کا سامنا ہوگا، وہ موت ہے، نیز وہ فرماتے ہیں کہ «يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ» میں لفظ «مُهْلِ» سے مراد زیتون کے تیل کا وہ تلچھٹ ہے جو اس کے نیچے رہ جاتا ہے، اور «آنَاءَ اللَّيْلِ» کا معنی رات کا درمیان ہے، اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ علم کے چلے جانے سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد زمین سے علماء کا چلے جانا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1946]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، قابوس ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف، قابوس ضعيف.
حدیث نمبر: 1947 مسند احمد
جَرِيرٌ ، قَابُوسَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ، كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جس کے پیٹ میں قرآن کا کچھ حصہ بھی نہ ہو، وہ ویران گھر کی طرح ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1947]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف قابوس.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف قابوس.
حدیث نمبر: 1948 مسند احمد
جَرِيرٌ ، قَابُوسَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ," كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ، وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا سورة الإسراء آية 80".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتداء میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہجرت کا حکم دے دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾ [الإسراء: 80] » اے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے پروردگار! مجھے عمدگی کے ساتھ داخل فرما اور عمدگی کے ساتھ نکلنا نصیب فرما اور اپنے پاس سے مجھے ایسا غلبہ عطاء فرما جس میں تیری مدد شامل ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1948]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف قابوس.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف قابوس.
حدیث نمبر: 1949 مسند احمد
جَرِيرٌ ، قَابُوسَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ، وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک زمین میں دو قبلے نہیں ہو سکتے اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1949]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف قابوس.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف قابوس.
حدیث نمبر: 1950 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُحْشَرُ النَّاسُ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا، فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام"، ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھائے جائیں گے، اور سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنایا جائے گا وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ﴾ [الأنبياء: 104] » ہم نے جس طرح مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا، اسی طرح ہم اسے دوبارہ بھی پیدا کریں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1950]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3349.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3349.
حدیث نمبر: 1951 مسند احمد
يَحْيَى ، الأَوْزَاعِيِّ ، الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ، وَقَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا: اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1951]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 211، م: 358.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 211، م: 358.
حدیث نمبر: 1952 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةُ حَمْزَةَ، فَقَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا ذکر کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہے کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔ (دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1952]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447 .
حدیث نمبر: 1953 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا مَطَرٍ"، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَمَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا، اس وقت نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1953]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 705.
الحكم: إسناده صحيح، م: 705.
حدیث نمبر: 1954 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشُ ، أَبِي ظَبْيَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرِنِي الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْكَ، فَإِنِّي مِنْ أَطَبِّ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُرِيكَ آيَةً؟" , قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَى نَخْلَةٍ، فَقَالَ: ادْعُ ذَلِكَ الْعِذْقَ، قَالَ: فَدَعَاهُ، فَجَاءَ يَنْقُزُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ"، فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ، فَقَالَ الْعَامِرِيُّ: يَا آلَ بَنِي عَامِرٍ، مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَسْحَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بنو عامر کا ایک آدمی آیا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اپنی وہ مہر نبوت دکھائیے جو آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان ہے، میں لوگوں میں بڑا مشہور طبیب ہوں (اس کا علاج کر دیتا ہوں)، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی بات کو ٹالتے ہوئے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک معجزہ نہ دکھاؤں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھجور کے ایک درخت پر نگاہ ڈال کر فرمایا: اس ٹہنی کو آواز دو، اس نے آواز دی تو وہ ٹہنی اچھلتی کودتی ہوئی آ کر اس کے سامنے کھڑی ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اپنی جگہ واپس چلی جاؤ، چنانچہ وہ اپنی جگہ واپس چلی گئی، یہ دیکھ کر بنو عامر کا وہ آدمی کہنے لگا: اے آل بنی عامر! میں نے آج کی طرح کا زبردست جادوگر کبھی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1954]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1955 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشُ ، مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَإِنَّ عَادًا أُهْلِكَتْ بِالدَّبُورِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1955]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900 .
حدیث نمبر: 1956 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشُ ، زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11، قَالَ" رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَلْبِهِ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ « ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى﴾ [النجم: 11] » آنکھ نے جو دیکھا، دل نے اس کی تکذیب نہیں کی سے مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دل کی آنکھوں سے اپنے پروردگار کا دو مرتبہ دیدار کیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1956]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 176 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 176 .
حدیث نمبر: 1957 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، ابْنِ حُدَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ حُدَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وُلِدَتْ لَهُ ابْنَةٌ، فَلَمْ يَئِدْهَا، وَلَمْ يُهِنْهَا، وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا يَعْنِي: الذَّكَرَ , أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہو، وہ اسے زندہ درگور کرے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھے اور نہ ہی لڑکے کو اس پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1957]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن حدير مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، ابن حدير مجهول.