بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 46 از 86
حدیث نمبر: 2738 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقُصُّ شَارِبَهُ، وَكَانَ أَبُوكُمْ إِبْرَاهِيمُ مِنْ قَبْلِهِ يَقُصُّ شَارِبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی مونچھوں کو تراشا کرتے تھے اور ان سے پہلے تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی مونچھوں کو تراشا کرتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2738]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب الحديث
الحكم: إسناده ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب الحديث
حدیث نمبر: 2739 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمْ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَمَا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخَرَيْهِ، خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمْ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے ان آباؤ اجداد پر فخر نہ کیا کرو جو زمانہ جاہلیت میں مرگئے ہوں، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ایک مسلمان کی ناک کے نتھنوں میں جو گرد و غبار لڑھک کر چلا جاتا ہے وہ تمہارے ان آباؤ اجداد سے بہتر ہے جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2739]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2740 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُوتِرُ بِثَلَاثٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2740]
حکم دارالسلام
صحيح، وقد اضطرب فيه على يحيى بن الجزار، فروى عنه عن ابن عباس، وأخرى عن أم سلمة ، وثالثة عن عائشة
الحكم: صحيح، وقد اضطرب فيه على يحيى بن الجزار، فروى عنه عن ابن عباس، وأخرى عن أم سلمة ، وثالثة عن عائشة
حدیث نمبر: 2741 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ؟ فَقَالَ:" بَلْ حَجَّةٌ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، كُلَّ عَامٍ، لَكَانَ كُلَّ عَامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر مسلمان - جو صاحب استطاعت ہو - پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2741]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2742 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، يَزِيدُ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي، وَلَا أَقُولُهُنَّ فَخْرًا: بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، الْأَحْمَرِ، وَالْأَسْوَدِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي، فَهِيَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، اور میں یہ بات فخر کے طور پر بیان نہیں کر رہا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، ایک ماہ کی مسافت پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، میرے لئے مال غنیمت کو حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا، میرے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنا دیا گیا ہے، اور مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے جسے میں نے اپنی امت کے لئے قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا ہے اور یہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2742]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف، لضعف يزيد
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف، لضعف يزيد
حدیث نمبر: 2743 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَابِتٌ ، هِلَالٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارَانِ، إِلَّا أَنْ أُعِدَّهُمَا لِدَيْنٍ" , قَالَ: فَمَاتَ وَمَا تَرَكَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِيدَةً، وَتَرَكَ دِرْعَهُ رَهْنًا عِنْدَ يَهُودِيٍّ بثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ آل محمد کے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنا دیا جائے اور میں اس میں سے اللہ کے نام پر خرچ کرتا رہوں اور جس دن مروں تو اس میں سے دو دینار بھی میرے پاس بچے ہوں، سوائے ان دو دیناروں کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لوں، بشرطیکہ قرض ہو بھی۔ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ترکہ میں کوئی دینار یا درہم اور کوئی غلام یا باندی نہ چھوڑی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیس صاع جو لئے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2743]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2744 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَعَفَّانُ ، ثَابِتٌ ، هِلَالٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ , وَعَفَّانُ , قَالُوا: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ، وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ:" مَا لِي وَلِلدُّنْيَا؟ مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا، إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس چٹائی پر تشریف فرما ہیں، پہلوئے مبارک پر اس کے نشانات پڑ چکے ہیں، عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے کچھ نرم بستر بنوا لیتے تو کتنا اچھا ہوتا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جو گرمی کے موسم میں سارا دن چلتا رہے اور کچھ دیر کے لئے ایک درخت کے نیچے سایہ حاصل کرے، پھر اسے چھوڑ کر چل دے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2744]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2745 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَابِتٌ ، هِلَالٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَاتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدُوًّا، فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْهُمْ حَتَّى أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِهَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ:" اللَّهُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، فَامْلَأْ بُيُوتَهُمْ نَارًا، وَامْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا" وَنَحْوَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دشمن سے قتال کیا اور اس کی وجہ سے نماز عصر اپنے وقت سے مؤخر ہو گئی، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2745]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2746 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، ثَابِتٌ ، هِلَالٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ، وَالصُّبْحِ، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، مِنَ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ، يَدْعُو عَلَيْهِمْ، عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ، أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَقَتَلُوهُمْ" , قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: وَقَالَ عِكْرِمَةُ: هَذَا كَانَ مِفْتَاحَ الْقُنُوتِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پورا مہینہ تسلسل کے ساتھ ظہر، عصر، مغرب، عشا اور فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے اختتام پر دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد بنو سلیم کے ایک قبیلے، رعل، ذکوان، عصیہ اور انہیں پناہ دینے والوں پر بددعا فرماتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان قبائل کی طرف اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دعوت اسلام کے لئے بھیجا تھا لیکن ان لوگوں نے انہیں شہید کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2746]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2747 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْحَكَمُ ، وَأَبُو بِشْرٍ ، مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، وَأَبُو بِشْرٍ , عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2747]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1934
الحكم: إسناده صحيح، م: 1934
حدیث نمبر: 2748 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، حُسَيْنٌ ، ابْنُ بُرَيْدَةَ ، يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِي، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ» اے اللہ! میں آپ کا تابع فرمان ہو گیا، میں آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، میں آپ کے غلبہ کی پناہ میں آتا ہوں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس بات سے کہ آپ مجھے گمراہ کر دیں، آپ سب کو زندہ رکھنے والے ہیں، آپ پر موت نہیں آ سکتی اور تمام جن و انس مرجائیں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2748]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 7383 ، م: 2717
الحكم: إسناده صحيح، خ : 7383 ، م: 2717
حدیث نمبر: 2749 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ ضِمَادٌ الْأَزْدِيُّ مَكَّةَ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغِلْمَانٌ يَتْبَعُونَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أُعَالِجُ مِنَ الْجُنُونِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا , مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ، فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ، فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" , قَالَ: فَقَالَ: رُدَّ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ , قَالَ: ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ الشِّعْرَ، وَالْعِيَافَةَ، وَالْكَهَانَةَ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ، لَقَدْ بَلَغْنَ قَامُوسَ الْبَحْرِ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ , فَأَسْلَمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْلَمَ:" عَلَيْكَ وَعَلَى قَوْمِكَ؟" , قَالَ: فَقَالَ: نَعَمْ، عَلَيَّ وَعَلَى قَوْمِي , قَالَ: فَمَرَّتْ سَرِيَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِقَوْمِهِ، فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا، إِدَاوَةً أَوْ غَيْرَهَا، فَقَالُوا: هَذِهِ مِنْ قَوْمِ ضِمَادٍ، رُدُّوهَا , قَالَ: فَرَدُّوهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ضماد ازدی ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا اور ان چند نوجوانوں کو بھی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع کرتے تھے، اور کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں جنون کا علاج کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے جواب میں یہ کلمات فرمائے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں، ہم اس سے مدد اور بخشش طلب کرتے ہیں، اور اپنے نفسوں کے شر سے اس کی پناہ میں آتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ضماد نے کہا کہ یہ کلمات دوبارہ سنائیے، پھر کہا کہ میں نے شعر، نجوم اور کہانت سب چیزیں سنی ہیں لیکن ایسے کلمات کبھی نہیں سنے، یہ تو سمندر کی گہرائی تک پہنچے ہوئے کلمات ہیں، یہ کہا اور کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کلمہ کی ضمانت آپ اور آپ کی قوم دونوں پر ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! مجھ پر بھی ہے اور میری قوم پر بھی، چنانچہ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کا ایک سریہ ضماد کی قوم پر سے گزرا اور بعض لوگوں نے ان کا کوئی برتن وغیرہ لے لیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یہ ضماد کی قوم کا برتن ہے، اسے واپس کر دو، چنانچہ انہوں نے وہ برتن تک واپس کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2749]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 868
الحكم: إسناده صحيح، م: 868
حدیث نمبر: 2750 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ الْفَضْلِ ابْنَةُ الْحَارِثِ بِأُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ عَبَّاسٍ، فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَالَتْ، فَاخْتَلَجَتْهَا أُمُّ الْفَضْلِ، ثُمَّ لَكَمَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهَا، ثُمَّ اخْتَلَجَتْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِينِي قَدَحًا مِنْ مَاءٍ" , فَصَبَّهُ عَلَى مَبَالِهَا، ثُمَّ قَالَ:" اسْلُكُوا الْمَاءَ فِي سَبِيلِ الْبَوْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ام حبیبہ بنت عباس کو لے کر آئیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں بٹھا دیا، اس نے پیشاب کر دیا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا شرمندہ ہو گئیں اور بچی کو اس کے کندھوں کے درمیانی جگہ پر تھپڑ لگا دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانی کا ایک برتن دے دو، چنانچہ جہاں جہاں اس نے پیشاب کیا تھا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی بہا لیا اور فرمایا: پیشاب کی جگہ پر پانی بہا لیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2750]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، حسين بن عبدالله ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، حسين بن عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 2751 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، زِيَادٌ ، قَزَعَةَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ قَزَعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا، وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور ہمارے پیچھے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کھڑی تھیں، جو ہمارے ساتھ نماز میں شریک تھیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2751]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2752 مسند احمد
أَسْوَدُ ، أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ" بَيْعِ الْغَرَرِ" , قَالَ أَيُّوبُ: وَفَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْغَرَرِ ضَرْبَةَ الْغَائِصِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الْآبِقُ، وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ تُرَابُ الْمَعَادِنِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي ضُرُوعِ الْأَنْعَامِ، إِلَّا بِكَيْلٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دھوکہ کی بیع اور تجارت سے منع فرمایا ہے۔ راوی حدیث ایوب کہتے ہیں کہ یحییٰ نے دھوکہ کی تجارت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں یہ صورت بھی شامل ہے کہ کوئی آدمی یہ کہے کہ میں دریا میں جال پھینک رہا ہوں، جتنی مچھلیاں اس میں آگئیں، میں اتنے روپے میں انہیں آپ کے ہاتھ فروخت کرتا ہوں، اور بھگوڑے غلام کو فروخت کرنا، بدک جانے والی وحشی بکری کی فروخت، جانوروں کے حمل کی فروخت، کانوں کی مٹی کی فروخت، اور جانور کے تھنوں میں موجود دودھ کی بلا اندازہ فروخت بھی شامل ہے، ہاں! اگر دودھ ناپ کر بیچا جائے تو جائز ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2752]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن عتبة ضعيف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن عتبة ضعيف
حدیث نمبر: 2753 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَاجِدًا مُخَوِّيًا، حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ کو سجدے کی حالت میں دیکھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2753]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع ، وأربد لم يرو عنه غير أبى إسحاق
الحكم: صحيح لغيره، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع ، وأربد لم يرو عنه غير أبى إسحاق
حدیث نمبر: 2754 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الضَّحَّاكِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَتْ تَلْبِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لبيك لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تلبیہ اس طرح تھا: «لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ» ۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2754]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره. وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ والضحاك لم يسمع من ابن عباس
الحكم: صحيح لغيره. وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ والضحاك لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 2755 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، جَابِرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ:" أَيْنَ صُنِعَتْ هَذِهِ؟" , فَقَالُوا: بِفَارِسَ، وَنَحْنُ نُرَى أَنَّهُ يُجْعَلُ فِيهَا مَيْتَةً , فَقَالَ:" اطْعَنُوا فِيهَا بِالسِّكِّينِ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا" , ذَكَرَهُ شَرِيكٌ مَرَّةً أُخْرَى، فَزَادَ فِيهِ: فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے پنیر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: یہ کہاں سے تیار ہو کر آیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: فارس سے، اور ہمارا خیال ہے کہ اس میں مردار ملایا گیا ہوگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھری سے ہلا لو اور بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2755]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ وجابر ضعيف
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ وجابر ضعيف
حدیث نمبر: 2756 مسند احمد
أَسْوَدُ ، الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ، أَيَدْخُلُ عُمَرُ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بالاخانہ میں تھے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور سلام کر کے عرض کیا کہ کیا عمر اندر آ سکتا ہے؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2756]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2757 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَدَعُوا سَبْعَ أَذْرُعٍ، ثُمَّ ابْنُوا، وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ، فَلْيَدَعْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب راستے میں تمہارا اختلاف رائے ہو جائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو، اور جس شخص سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر اپنا شہتیر رکھنے کی درخواست کرے تو اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2757]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع ورواية سماك عن عكرمة مضطربة