بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 85 از 86
حدیث نمبر: 3518 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو حَاضِرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَاضِرٍ ، قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْجَرِّ يُنْبَذُ فِيهِ؟ فَقَالَ: نَهَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ عَنْهُ. فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ لَهُ مَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَدَقَ. قَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَيُّ جَرٍّ نَهَى عَنْهُ؟، قَالَ:" كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحاضر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس مٹکے متعلق سوال کیا جس میں نبیذ بنائی جاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اس سے منع کیا ہے، وہ آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ گیا اور ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جواب بھی ذکر کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، اس آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس قسم کے مٹکے کے استعمال سے منع فرمایا ہے؟ فرمایا: ہر وہ مٹکا جو پکی مٹی سے بنایا جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3518]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3519 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَأَخْرَجَ مِنْهُ مَا هُوَ ذَارِئٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَجَعَلَ يَعْرِضُهُمْ عَلَيْهِ، فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، أَيُّ بَنِيَّ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ. قَالَ: أَيْ رَبِّ، كَمْ عُمْرُهُ؟ قَالَ: سِتُّونَ سَنَةً. قَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْ فِي عُمْرِهِ. قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمْرِكَ. فَكَانَ عُمْرُ آدَمَ أَلْفَ عَامٍ، فَوَهَبَ لَهُ مِنْ عُمْرِهِ أَرْبَعِينَ عَامًا، فَكَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ كِتَابًا، وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ، فَلَمَّا حُضِرَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام، أَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ لِتَقْبِضَ رُوحَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَحْضُرْ أَجَلِي، قَدْ بَقِيَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً. فَقَالُوا: إِنَّكَ قَدْ وَهَبْتَهَا لِابْنِكَ دَاوُدَ. قَالَ: مَا فَعَلْتُ، وَلَا وَهَبْتُ لَهُ شَيْئًا. وَأَبْرَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَأَقَامَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب آیت دین نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیامت تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: پروردگار! یہ کون ہے؟ فرمایا: یہ آپ کے بیٹے داوؤد ہیں، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار! ان کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں، حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ تعالیٰ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کر دیا اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنا لیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داوؤد کو دے چکے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کر دی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3519]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، ويوسف بن مهران
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، ويوسف بن مهران
حدیث نمبر: 3520 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَمْعَةُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ عَلَيْكُمْ الْحَجَّ" فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: أَبَدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بَلْ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ، لَوَجَبَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ہمیں خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، یہ سن کر سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائدجو ہو گا وہ نفلی حج ہو گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3520]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة بن صالح، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة بن صالح، وقد توبع
حدیث نمبر: 3521 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَاتَتْ شَاةٌ لِمَيْمُونَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟" فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ. فَقَالَ:" إِنَّ دِبَاغَ الْأَدِيمِ طُهُورُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ انہوں نے کہا کہ یہ مردار ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دباغت سے تو کھال پاک ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3521]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يعقوب بن عطاء وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يعقوب بن عطاء وقد توبع
حدیث نمبر: 3522 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَا أَدْرِي،" أَرَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ بِسِتٍّ أَوْ سَبْعٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومجلز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: مجھے یاد نہیں رہا کہ میں نے چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات؟ فرمایا: مجھے بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمرات کو چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3522]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3523 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِهِ، مِنْ صُدَاعٍ وَجَدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3523]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5700
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5700
حدیث نمبر: 3524 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى رَأْسِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوا کر اپنے سر سے خون نکلوایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3524]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1835، م: 1202
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1835، م: 1202
حدیث نمبر: 3525 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَأَبُو دَاوُدَ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ أَشْعَرَ الْهَدْيَ جَانِبَ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ أَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ، وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ نَاقَتَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَحْرَمَ"، قَالَ: فَأَحْرَمَ عِنْدَ الظُّهْرِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ بِالْحَجِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر سوار ہو گئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3525]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1243
الحكم: إسناده صحيح، م: 1243
حدیث نمبر: 3526 مسند احمد
رَوْحٌ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنُ عُمَرَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً مَرَّةً، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کرتے تھے جب کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے اور وہ بھی اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کرتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3526]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، المطلب بن عبدالله مدلس، وروايته عن ابن عمر وابن عباس مرسلة
الحكم: صحيح لغيره، المطلب بن عبدالله مدلس، وروايته عن ابن عمر وابن عباس مرسلة
حدیث نمبر: 3527 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَيْسٍ ، عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَيْسٌ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَيْسٍ . قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَيْسٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى زَمْزَمَ، فَنَزَعْنَا لَهُ دَلْوًا، فَشَرِبَ ثُمَّ مَجَّ فِيهَا، ثُمَّ أَفْرَغْنَاهَا فِي زَمْزَمَ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا، لَنَزَعْتُ بِيَدَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہ زمزم پر تشریف لائے، ہم نے ایک ڈول کھینچ کر پانی نکالا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور اس ڈول میں کلی کر دی، پھر ہم نے وہ ڈول چاہ زمزم میں ڈال دیا (یوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پس خوردہ بھی اس میں شامل ہو گیا) اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے مغلوب ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اپنے ہاتھ سے ڈول کھینچتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3527]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3528 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا، قَالَ: لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا شَأْنُ آلِ مُعَاوِيَةَ يَسْقُونَ الْمَاءَ وَالْعَسَلَ، وَآلُ فُلَانٍ يَسْقُونَ اللَّبَنَ، وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ؟ أَمِنْ بُخْلٍ بِكُمْ، أَوْ حَاجَةٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا بِنَا بُخْلٌ، وَلَا حَاجَةٌ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا، وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَاسْتَسْقَى، فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا يَعْنِي نَبِيذَ السِّقَايَةِ فَشَرِبَ مِنْهُ، وَقَالَ:" أَحْسَنْتُمْ، هَكَذَا فَاصْنَعُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک دیہاتی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آل معاویہ لوگوں کو پانی اور شہد پلاتی ہے، آل فلاں دودھ پلاتی ہے اور آپ لوگ نبیذ پلاتے ہیں؟ کسی بخل کی وجہ سے یا ضرورت مندی کی بناء پر؟ انہوں نے فرمایا: نہ ہم کنجوس ہیں اور نہ ہی ضرورت مند، بات دراصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس آئے، ان کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب کیا، ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پس خوردہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا، اور فرمایا: تم نے اچھا کیا اور خوب کیا، اسی طرح کیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3528]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1316
الحكم: إسناده صحيح، م: 1316
حدیث نمبر: 3529 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاءِ زَمْزَمَ فَسَقَيْنَاهُ، فَشَرِبَ قَائِمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمزم کے کنوئیں پر تشریف لائے، ہم نے انہیں اس کا پانی پلایا تو انہوں نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3529]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
حدیث نمبر: 3530 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، أَبِي حَرِيزٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے نکاح میں پھوپھی، بھتیجی اور خالہ، بھانجی کو جمع کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3530]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3531 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورہ اعلی، سورہ کافرون اور سورہ اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3531]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3532 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: كَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يَأْتِي عَلَى رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا اسْتَلَمَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " إِنَّمَا كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ". فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ. قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَ، وَالْحَجَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے جس کونے پر بھی گزرتے اس کا استلام کرتے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام فرماتے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3532]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3533 مسند احمد
رَوْحٌ ، الثَّوْرِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَهُمَا يَطُوفَانِ حَوْلَ الْبَيْتِ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَيْنِ، وَكَانَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَ وَالْأَسْوَدَ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَيْسَ مِنْهَا شَيْءٌ مَهْجُورٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے جس کونے پر بھی گزرتے اس کا استلام کرتے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام فرماتے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3533]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3534 مسند احمد
عربی حدیث ابھی نہیں ملی
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جعرانہ سے عمرہ کیا، اور خانہ کعبہ کے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا، اور چار چکروں میں حسب معمول چلتے رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3534]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3535 مسند احمد
يونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، حَمَّادٌ ، أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ ، أَبِي الطُّفَيْلِ
حَدَّثَنَا يونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3535]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3536 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا، قَالَتْ: إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ. فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي اعْتَمَرَ فِيهِ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَكُمْ" فَلَمَّا رَمَلُوا، قَالَتْ قُرَيْشٌ: مَا وَهَنَتْهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین استہزاء کہنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آ رہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو پہلے تین چکروں میں رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر نہیں کیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3536]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
حدیث نمبر: 3537 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حجر اسود جنت سے آیا ہے، یہ پتھر پہلے برف سے بھی زیادہ سفید تھا، مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3537]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: وكان أشد بياضا ....، وإسناده ضعيف لاختلاط عطاء بن السائب
الحكم: صحيح دون قوله: وكان أشد بياضا ....، وإسناده ضعيف لاختلاط عطاء بن السائب